26 جنوری 2015 - 06:42
مشرق وسطی میں انتہاپسندی کا ذمہ دارمغرب ہے، جوادظریف

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے مغرب کو مشرق وسطی کے علاقے میں انتہاپسندی کا ذمہ دارقرار دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے سوئیزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے حالیہ اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا کہ مغرب کو انتہا پسندی کے مسئلے میں خود اپنے آپ کا جائزہ لینا چاہیے- وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ مغرب والوں کو خود سے پوچھنا چاہیے کہ کون سی چیز غلط تھی جس کی وجہ سے مشرق وسطی میں انتہا پسندوں کی اکثریت تو نہیں لیکن ایک بڑی تعداد مغربی معاشروں سے آتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مغربی معاشروں کے شہریوں کی دوسری اور تیسری نسلیں ہیں جو مشرق وسطی کے علاقے میں انتہا پسندی کا سبب بنی ہیں اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے کیسے تربیت حاصل کی- وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ یہ انتہا پسند غیرجمہوری معاشروں میں نہيں پلے بڑھے ہيں بلکہ یہ مغرب میں ہی بڑے ہوئے ہيں اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ عناصر شام اور عراق میں مغربی ملکوں سے آئے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مشرق وسطی کا مسئلہ، شیعہ اور سنی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اس علاقے میں منطق پر یقین رکھنے والوں اور اعتدال پسند طاقتوں اور انتہا پسندوں کے درمیان مسئلہ ہے، کہا کہ افسوس کہ عراق اور شام میں داعش اور جبہۃ النصرہ جیسے انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں نے ہی جو سنی آبادیوں کا دفاع کرنے کے دعویدار ہیں، بڑی تعداد میں سنیوں کو قتل کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے دہشت گرد گروہ داعش کا مقابلہ کرنے کے بارے میں کہا کہ اس سلسلے میں مختلف اقدامات انجام دیے جانے چاہییں جن میں سے اہم ترین داعش کی حمایت کو روکنا ہے- انہوں نے کہا کہ افسوس کہ داعش کی حمایت اب بھی کی جا رہی ہے اور اس گروہ کو بدستور امداد مل رہی ہے۔

.......

/169