31 دسمبر 2014 - 08:50
 داعش نے اپنے200 ساتھیوں کا سر قلم کردیا

برطانیہ میں واقع نام نہاد سیرین آبزرویٹري برائے ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ تكفيري دہشت گروہ داعش نے اپنے200 ساتھیوں کا سر قلم دیا کیونکہ یہ افراد، داعش کی حقیقت کو سمجھ گئے تھے اور اسے چھوڑ کر وطن لوٹنا چاہتے تھے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سیرین آبزرویٹري برائے ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ مارے جانے والوں میں زیادہ تر غیر ملکی دہشت گرد تھے جو داعش کے زیرکنٹرول علاقے سے فرار اور وطن لوٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس گروپ نے 120 جنگجوؤں کا سر قلم کرنے کی تصدیق کی ہے۔ اگرچہ اس نے کہا کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ تعداد اس سے زیادہ ہے اور200 کے قریب ہے۔

سیرین آبزرویٹري برائے ہیومن رائٹس نے کہا کہ وہ مارے جانے والے دہشت گردوں کی شہریت اور عمر کی تصدیق نہیں کر سکتے، لیکن ان میں کچھ یورپی تھے۔
اکتوبر کے آخر میں اقوام متحدہ نے عراق اور شام میں داعش جیسے شدت پسند گروہوں میں بڑی تعداد میں غیر ملکی دہشت گردوں کے شامل ہونے کی بابت متنبہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق تقریبا 15000 غیر ملکی دہشت گرد داعش یا اس جیسے دوسرے گروہوں میں شامل ہونے کے لئے عراق اور شام گئے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق تكفيري گروہوں میں80 سے زیادہ ممالک کے دہشت گرد شامل ہیں۔ اس سے پہلے کسی بھی دہشت گرد گروہ میں اتنے ممالک کے دہشت گرد شامل نہیں ہوئے تھے۔

تكفيري دہشت گروہ داعش، عراق اور شام کے کچھ علاقوں پر قابض ہے۔ ان علاقوں میں داعش نے ایسے جرائم کئے ہیں جن سے انسانیت شرمسار ہو جائے۔ اس تكفيري گروپ نے شیعہ، سنی، کرد، اور عیسائی سمیت تمام فرقوں کی نسل کشی کی ہے۔

.......

/169