اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران ہمسایہ ملکوں کے ساتھ علاقائی سیکیورٹی کی بحالی میں تعاون کے لئے آمادہ ہے اور یہ یقین رکھتا ہے کہ علاقائی سیکیورٹی کی برقراری کے لئے اغیار کی فورسز کی کوئي ضرورت نہیں ہے۔ ایران کی بحریۂ کے کمانڈر ایڈمرل حبیب اللہ سیّاری نے گذشتہ روز العالم کے ساتھ گفتگو میں اس موضوع پر تاکید کے ساتھ، محمد رسول اللہ فوجی مشقوں کا مقصد و ہدف، ایران کی دفاعی طاقت کا مظاہرہ اور اسلامی وحدت کے دائرے میں امن و استحکام کا قیام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فوجی مشقیں، علاقے میں ہمسایہ ملکوں، حتی علاقے سے باہر کے ممالک کے لئے امن و دوستی کے پیغام کی حامل ہیں اور ان مشقوں سے نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران علاقائی ملکوں کے تعاون کے ساتھ علاقے میں سیکیورٹی کی بحالی کے درپے ہے۔ ایران کی بری، فضائی اور بحری افواج کی مشترکہ مشقیں گذشتہ جمعرات سے جنوب اور جنوب مشرقی ایران اور بحیرہ عمان میں شروع ہوئي ہیں اور بدہ تک جاری رہیں گی۔ ان مشقوں کا آغاز یا محمد رسول اللہ کے کوڈ کے ساتھ ہوا۔ ان مشقوں میں ایران کی بری فوج، جنگی طیارے، فضائی دفاعی سیسٹم اور بحریہ کی مختلف بوٹیں اور آبدوزیں حصہ لے رہی ہیں۔ بحیرۂ عمان اور آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گذر گاہ اور اقتصادی شہ رگ سے تعبیر کی جاتی ہے اور اسی وجہ سے، انتہائی اہمیت کے حامل اس علاقے کی سیکیورٹی کا استحکام نہایت ہی ضروری ہے۔ لیکن امن و استحکام اور سیکیورٹی کوئی ایسا سامان نہیں کہ جیسے کسی دوسری جگہ سے درآمد کرکے منتقل کیا جائے۔ سیکیورٹی کے لئے کسی بھی نظریئے سے ہٹ کر، اعتماد، تعاون اور علاقائی ہمفکری کی ضرورت ہے۔ لیکن گذشتہ تین دہائيوں میں انتہائی اہمیت کے حامل مسئلہ کو اغیار کے اشاروں پر کم اہمیت قرار دیا جاتا رہا ہے۔ بہرحال اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ علاقائی سیکیورٹی کے تحفظ کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے، اپنی دفاعی حکمت عملی میں اسے سرفہرست قرار دے رکھا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریۂ کے سربراہ ایڈمرل حبیب اللہ سیّاری نے اپنی گفتگو میں سیکیورٹی کے لئے باہمی رابطوں کی تقویت میں اہم اور اثرانداز ہونے والے عناصر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے، خلیج فارس کے علاقے کے ملکوں کے ساتھ، بہت زیادہ مشترکات ہیں، جن میں مشترکہ آبی علاقے بھی ہیں اور ان فوجی مشقوں کا مقصد و ہدف، فوجی توانائی کی سطح میں اضافہ ہے۔ اس بناپر ایران کی فوجی مشقیں کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ ان کا اصلی مقصد، علاقائی ملکوں کے درمیان مشترکہ سیکیورٹی کی برقراری اور تحفظ کے حوالے سے تعاون کی تقویت ہے۔ اسی وجہ سے ایران نے، ہمسایہ ملکوں کو علاقائی سیکیورٹی کی بحالی میں تعاون کی دعوت دی ہے۔ اس وقت ایران، دفاعی طاقت کے حوالے سے اس مقام پر فائز ہے کہ علاقے کے سیکیورٹی توازن اور امن و استحکام کے تحفظ میں، اس کا اہم کردار ہے، اور یہی خصوصیت، سیکیورٹی کے شعبے میں باہمی نظریات کے قریب آنے اور اغیار سے وابستگی کے ختم ہونے کا اہم عامل ثابت ہوگی، اور یہی امر علاقائی ملکوں کی سرنوشت کے لئے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ خلیج فارس کا علاقہ کہ جو مشرق وسطی میں سوق الجیشی اہمیت کا حامل ہے میں امریکہ کی فوجی حکمت عملی، وسیع مداخلت پسندانہ پالیسی پر استوار ہے اور امریکہ ہمیشہ سے ہی اس علاقے میں اپنے دفاعی مفادات کے درپے رہا ہے۔ امریکہ کی اس دفاعی ڈاکٹرئین نے کبھی بھی سیکیورٹی تعاون کی تقویت میں مدد نہیں کی ہے، بلکہ خلیج فارس میں امریکی اور برطانوی فوجی اڈوں کے قیام اور ان کی حفاظت اور بحیرۂ عمان میں فوجی سیکیورٹی معاہدوں کے دائرے میں، خلیج فارس کے عرب ملکوں کو فورسز اور فوجی ساز و سامان کی مد میں بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ درحقیقت، امریکہ ایک مداخلت پسندانہ طاقت کے عنوان سے دنیا کے اہم سوق الجیشی علاقوں منجملہ مشرق وسطی کو اپنے اسٹراٹیجیک مفادات کا مرکز سمجھتا ہے اور اپنے سوق الجیشی سیکیورٹی پلان کو علاقے میں آگے بڑھانے کے درپے رہتا ہے، حالانکہ اس حکمت عملی نے نہ صرف علاقے میں امن و استحکام کی براقراری میں کوئی مدد نہیں کی ہے بلکہ علاقے کو بدامنی اور عدم استحکام کا شکار کیا ہے۔

























.......
/169