اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین کے عوام نے کل اس ملک کے دارالحکومت اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ احتجاج مظاہروں کی کال حکومت مخالف انقلابی تحریک اور جمیعت اسلامی وفاق ملی نے دی تھی۔ حکومت مخالفین کا کہنا ہے کہ مظاہروں کا سلسلہ مطالبات کے تسلیم ہونے تک جاری رہے گا۔
حکومت مخالفین کا مطالبہ ہے کہ ملک میں ایک ایسی حکومت قائم ہونی چاہئے جو عوامی ہو، پارلیمنٹ قانون سازی میں آزاد اور خود مختار ہو تاکہ آئندہ انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ ہونے کیلئے حالات فراہم ہوں، عدالتیں آزاد و خودمختار اور غیر جانبدار ہوں اور قومی سکیورٹی ادارے اس طرح ہوں جو عوام کی داد رسی کر سکیں۔ یہ ایسے میں ہے کہ بحرین کی آل خلیفہ حکومت گذشتہ 3سال سے عوام کو سرکوب کرنے میں ناکام رہنے کے بعد اب حکومت مخالفین کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور ہوئی اور بحرین کے وزیر داخلہ کو سیاستدانوں سے گفتگو کرنے کی ذمہ داری سونپی۔
بحرین کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے جنرل سیکریٹری فاضل عباس نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ بحرین کا بحران امن و امان کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ بحران سیاسی ہے اس ملک کے وزیر داخلہ کی سیاسی شخصیات اور حکومت مخالفین سے گفتگو کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مخالفین کو وزیر داخلہ سے ملاقات نہیں کرنی چاہئے۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی نے اسی طرح بحرین میں برطانیہ کے سفیر ایان لیندسی کے بیان کو اس ملک کے داخلی امور میں واضح مداخلت قرار دیتے ہوئے حکومت مخالفین کو سرکوب کرنے سے متعلق پالیسی سے ہم آہنگ قرار دیا۔ اس بیان میں آیا ہے کہ بحرین کے عوام اس ملک میں ہر قسم کی غیرملکی اور برطانوی فوجیوں کی موجودگی کا مخالف ہے اور اس ملک میں برطانیہ کا فوجی اڈہ بحرین کی ارضی سالمیت اور قومی حاکمیت پر سوالیہ نشان ہے۔
بحرین میں برطانیہ کے سفیر ایان لیندسی نے اس ملک میں برطانیہ کے فوجی اڈے کی مخالفت کوحکومت مخالفین پر بعض علاقائی ملکوں کےاثرات کا حامل قرار دیا تھا۔ بحرین میں 2011 سے آل خلیفہ اپنے جائز حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والے مظلوم بحرینی عوام کو سرکوب کر رہی ہے اور اسے اکثر علاقائی ملکوں من جملہ امریکہ اور برطانیہ کی حمایت حاصل ہے۔






























...............
۲۴۲