اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراق میں دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔
ایک طرف کرد ملیشیا نے حملے تیز کرتے ہوئے شمالی علاقے سنجار تک جانے والے راستے کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے بعد وہ سنجار سٹی میں داخل ہوگئے ہیں جبکہ دوسری طرف عراقی فوج نے شمالی شہر تلعفر کے فوجی ہوائی اڈے کو دہشت گردوں کے وجود سے پاک کر دیا ہے۔
عراق کے انسداد دہشت گردی فورس نے صوبہ نینوا میں اہم آپریشن کرکے ہوائی اڈے کو آزاد کرا لیا۔ آپریشن میں رضاکار فورسز کے دستوں اور کرد ملیشیا کے دستوں نے بھرپور تعاون کیا۔ صوبہ نینوا عراق میں داعش کا اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ صوبے کے تلعفر سٹی میں کئی مقامات پر جھڑپیں ہو رہی ہیں اور تقریبا ایک درجن دہشت مارے گئے ہیں۔ نینوا کے سہل نامی علاقے میں بھی متعدد دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
در ایں اثنا کرد ملیشیا، عراق - شام کی سرحد پر واقع شہر سنین الربیعہ کی جانب پیشرفت کررہی ہے۔ سرحدی شہر کی اہمیت اس لئے ہے کہ یہ شہر دہشت گردوں کی سپلائی لائن کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
صوبہ الانبار اور صلاح الدین میں بھی کئی مقامات پر دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیجي سٹی میں دہشت گردوں کے ایک حملے کا ناکام بناتے ہوئے فوج نے کئی دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ اسی درمیان دہشت گردوں نے كركوک میں کم سے کم دو مقدس مقامات کو منہدم کر دیا ہے۔
ادھر عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادي نے اتوار کو اپنے کویت کے دورے میں اس ملک کے فرمانروا شیخ صباح احمد جابر صباح سے ملاقات کی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے راستوں کا جائزہ لیا ۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے مسائل پر بھی گفتگو کی۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اردن نے جس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کا وعدہ دیا ہے ہم کویت سے بھی چاہتے ہیں کہ اس بڑے مسئلے سے نمٹنے میں ساتھ دے۔
.......
/169