اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے امور میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی نے بتایا ہے کہ شام کے ان علاقوں میں جہاں پر داعش کا قبصہ ہے، 5 سال کے بچوں کو فوجی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ والري آموس کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت میں شام کے وہ بچے جو داعش کے زیر کنٹرول علاقوں میں رہ رہے ہیں، دنیا کے سب سے مظلوم بچے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ان کو بہت خوفناک سزائیں دیتے ہیں۔ اگر یہ بچے دہشت گردوں کے حکم پر عمل نہیں کرتے تو ان کے گلے کاٹ دیے جاتے ہیں۔ 5 سال کے بچوں کو فوجی ٹرینگ دینے کے بعد ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ جا کر جنگ میں دہشت گردوں کی مدد کریں جنہیں محاذوں پر ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ داعش کے زیر کنٹرول علاقوں میں رہنے والے بچے نسل کشی اور قتل عام کے مناظر دیکھ کر بہت خوفزدہ ہیں اور وہ ذہنی اعتبار سے بیمار ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کے شہر رقہ میں 5 سال کے تقریبا 350 بچوں کو داعش کے دہشت زبردستی فوجی ٹرینگ دے رہے ہیں۔
دوسری جانب شام کے علاقے القلمون میں دہشت گرد گروہ داعش اور نام نہاد فری سیرین آرمی نامی دہشت گرد گروہ کے عناصر کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں درجنوں دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
المیادین ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے دن شام کے القلمون شہر میں دہشت گرد گروہ داعش اور نام نہاد فری سیرین آرمی کے عناصر کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن کے نتیجے میں ان گروہوں کے دس عناصر ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگۓ ہیں۔
القلمون شہر میں دہشت گرد گروہ داعش کے سرغنوں نے اپنے عناصر کو حکم دیا ہے کہ وہ بیعت کی مخالفت کرنے والوں کے سر قلم کردیں ۔
.......
/169