اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دین اسلام کے نام پر رعب و وحشت پھیلانا اور غیر انسانی طریقہ اختیار کرنا ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ ایران کے دفترخارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے یرغمال بنائے جانے کے واقعے میں ایک پناہ گزین ایرانی کے کردار سے متعلق غیر مصدقہ خبروں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو عشروں قبل آسٹریلیاء میں پناہ لینے والے اس شخص کی نفسیانی اور دماغی صورت حال کے بارے میں ایک بار پھر آسٹریلیاء کے حکام سے گفتگو ہوئی ہے جبکہ اس شخص کی صورت حال، اس ملک کے حکام کیلئے مکمل واضح رہی ہے۔مارٹین پیلیس کے علاقے کے ایک کیفے میں یرغمال بنائے جانے کا واقعہ، سترہ گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد یرغمالیوں کی رہائی کے ساتھ ختم ہوگیا۔یرغمال بنانے والوں کے ہاتھ میں داعش دہشتگرد گروہ کا پرچم تھا۔ بعض مغربی ذرائع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کا تعلق ایران سے ہے۔ آسٹریلین پولیس کے مطابق اس واقعے میں تین افراد ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
















.......
/169