اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ، بحرین میں ایک نیا فوجی اڈہ قائم کر رہا ہے۔ بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد خلیفہ نے کہا ہے کہ اس ملک ميں برطانیہ کے ایک نئے فوجی اڈے کا قیام، بحرین اور علاقے میں امن و سلامتی کو مزید مستحکم کرنے کے مقصد سے انجام پا رہا ہے۔ بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی جاری رہنے کے ساتھ ہی برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بحرین میں اپنی فوجی موجودگی کی تقویت اور توسیع کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہيں۔ برطانوی وزیر دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس معاہدے سے برطانیہ کو اس بات کی اجازت حاصل ہوگی کہ وہ زيادہ تعداد میں اور بڑے بحری جہاز خلیج فارس کے علاقے میں طویل مدت کے لئے تعینات کر سکے گا۔
ہمارے ساتھی نے اس موضوع پرعالمی امور کے تجزیہ نگار صفدر رضا سے گفتگو کی اور اس معاہدے پرجب ان کارد عمل جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھا۔
صفدر رضا کا انٹرویو سننے کے لیے نیچے میڈیا پلیئر پر کلک کیجیے۔
بحرینی عوام نے اپنے ملک میں برطانیہ کے فوجی اڈے کے قیام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اس ملک میں برطانوی فوجی اڈے کے قیام کی مخالفت میں نعرے لگائے اور بحرین کو علاقے میں فوجی کارروائیوں کے مرکز میں تبدیل کئے جانے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
بحرین کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کے تحت برطانیہ کی شاہی بحریہ کے لیے خلیج فارس میں ڈیڑھ کروڑ برطانوی پاؤنڈ سے ایک اڈہ بنایا جائے گا۔ برطانیہ کے وزیر دفاع مائیکل فیلن نے کہا ہے کہ یہ شاہی بحریہ میں توسیع ہے اور اس سے خلیج فارس اور برطانیہ میں استحکام کی بحالی ہو گی۔ برطانوی بحریہ کا یہ فوجی اڈہ منا سلمان بندرگاہ پر ہو گا۔ جبکہ کہا جا رہا ہے کہ دہشتگرد تکفیری گروہ داعش کے جاری خطرات کے پیش نظر آل خلیفہ کی شاہی حکومت نے برطانوی فوج کو اپنی سرزمین پر فوجی اڈہ قائم کرنے کی دعوت دی ہے۔ امریکہ پہلے سے ہی اس علاقے میں مستقل فوجی موجودگی رکھتا ہے، جبکہ کہ فرانسیسی فوج کا متحدہ عرب امارت میں فوجی اڈہ موجود ہے۔
اس معاہدے کے بعد بحرین کی شاہی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا رہے گا کیونکہ بعض اصلاحات کے بعد بھی بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے اور بڑے پیمانے پر اس پر نکتہ چینی کا سلسلہ جاری ہے اس ملک کی شیعہ اکثریت کو سنی حکمرانوں کے تعصبات سے شکایت ہے اور وہ مستقل طور سے کسی بھی مغربی اڈے کے خلاف ہیں، جبکہ برطانیہ مختصر مدت کا بہانہ بنا کر کئی دہائیوں سے خلیج فارس کے ممالک میں اپنے جہازوں اور طیاروں کے علاوہ بری فوج بھی بھیجتا رہا ہے اوراس وقت بھی منا سلمان بندرگاہ پر برطانیہ کے مائن ہنٹر نامی چار بحری جہاز لنگر انداز ہیں جبکہ برطانیہ اس علاقے میں فوجی جہازوں کی تعداد بڑھانے کا خواہش مند ہے۔
آل خلیفہ نے کئي دہائيوں سے بحرین کی اکثریت کو اس کے حقوق سے محروم کر رکھا ہے اور اس غرض سے سعودی عرب سے بھی فوجی اور سیاسی مدد لے رہا ہے۔ آل سعود جس کے سامراج اور صیہونیت کے اتحادی ہونے کے بارے میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں حقیقی اسلام کا کٹر دشمن سمجھا جاتا ہے۔ آل سعود نے آل خلیفہ کو فوجی مدد دے کر انقلابیوں کی سرکوبی میں نہایت منفی کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت سعودی عرب کے جارح فوجی آل خلیفہ کے ساتھ مل کر نہتے بحرینی عوام کو کچلنے میں مشغول ہیں۔ سعودی عرب کے ان علاقوں میں جہاں شیعہ مسلمان اکثریت میں ہیں، کیا مفادات ہوسکتے ہیں اور آل سعود مختلف طرح سے ان علاقوں میں کیوں سرگرم عمل دکھائي دیتی ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بوڑھے سامراج نے آل سعود کو یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ ساری دنیا میں حقیقی اسلام کا مقابلہ اور اپنے پیسے اور سامراج و صیہونیت کی بھر پور حمایت سے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور اختلافات پھیلانے کے لئے کوئي دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گي اور وہ اسلام کے نام پر کفر و شرک و نفاق کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ہر اس جگہ سرگرم عمل دکھائي دے گي جہاں اہل حق کا بول بالا ہے۔ اسلامی بیداری کی مخالفت اور اس عوامی تحریک کو منحرف کرنے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کا بھرپور ساتھ دینا اس بات کو ثابت کر دیتا ہے کہ آل سعود نے ظاہری طور پراسلام کا لباس اورڑھ رکھا ہے اور اس کا بنیادی ہدف و مقصد اسلام کو مٹانا ہے۔ آل خلیفہ میں اتنی سکت اور توانائي نہیں تھی کہ وہ عوام کی انقلابی تحریک کا مقابلہ کر سکتی لہذا آل سعود نے بحرین میں عوامی تحریک کو اپنے ملک کی طرف بڑھتے دیکھ کر اپنی فوجیں بحرین بھیج دیں جس کے نتیجے میں آل خلیفہ کی شاہی حکومت کو سہارا مل گيا اور اس نے ملت بحرین کے حقوق نہایت ہی بےدردی سے پامال کرنا شروع کر دیئے۔
دراین اثنا بحرین کی مختلف انقلابی اور عوامی تحریکوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ آل خلیفہ کے ظالمانہ اقدامات کی مذمت کر کے ملت بحرین کے حقوق کے احترام کو یقینی بنائے۔ امریکہ، مغربی ممالک، صیہونی حکومت اور علاقے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے پٹھو ممالک، ملت بحرین کی انقلابی تحریک کو اپنے فائدے میں نہيں دیکھ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے اس تحریک کو کچل کر دیگر تحریکوں کو کچلنے کا راستہ ہموار کریں اور بحرین اور برطانیہ کے مابین ہونے والے فوجی معاہدے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169