30 نومبر 2014 - 15:52
امریکہ میں انسانی حقوق کی پامالی اور ایذا رسانی پر سلامتی کونسل کی شدید تنقید

ایسوشیٹڈ پریس کے مطابق سلامتی کونسل کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے جمعے کے دن پولیس کی درندگی کے بارے میں ایک رپورٹ شایع کر کے، فوج کے سپاہیوں کے تفتیش کے طریقہء کار، اور امریکی جیل خانوں کے ناگفتہ بہ حالات کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایسوشیٹڈ پریس کے مطابق سلامتی کونسل کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے جمعے کے دن پولیس کی درندگی کے بارے میں ایک رپورٹ شایع کر کے، فوج کے سپاہیوں کے تفتیش کے طریقہء کار، اور امریکی جیل خانوں کے ناگفتہ بہ حالات کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

ایسوشیٹیڈ پریس کی نیوز ایجینسی کی رپورٹ کی بنیاد پر سلامتی کونسل کی ایذا رسانیوں کی مخالف کمیٹی نے پہلی بار ایک رپورٹ شایع کی ہے ،کہ جس میں ۲۰۰۶ کے بعد انسانی حقوق کی حالت کے بارے میں جانچ پڑتال کی گئی ہے ۔اس رپورٹ میں پولیس کے اہلکاروں کی خشونت و درندگی اور خاص کر سیاہ فاموں اور شیکاگو کے ھیسپانیوں کے ساتھ پولیس کے اہلکاروں کے خشونت آمیز سلوک کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔

اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ قربانی بنائے گئے افراد کی جان کا خچرہ لاحق ہونے کی بنیاد پر بجلی کے کرنٹ لگائے جانے کو کم سے کم کیا جائے ۔لیکن اس رپورٹ میں سینٹ لوئس کی عدالت کے جنجالی فیصلے ،اور فرگوسن کے سیاہ فام نوجوان مایکل براون کی قاتل پولیس کی بے حقیقت صفائی کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیا گیا ہے ۔

مشکوک افراد کے سلسلے میں تفتیش کا کام فوج کے سپاہیوں کے سپرد کرنے ، بیرون ملک کے قیدیوں کو انتہائی حساس جیل خانوں میں رکھنے ،اور انفرادی جیل خانوں سے استفادہ کرنے میں امریکہ کا ماضی ،ایک اور وہ موضوع ہے کہ جس کے بارے میں اس رپورٹ میں تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

ایذا رسانی کی مخالف اقوام متحدہ کی کمیٹی نے امریکی حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اپنے قوانین میں ایذا رسانی کی وضاحت کرے ،خاص طور پر وہ ایذائیں جو گوانتانامو کے قیدیوں کو دی جاتی ہیں ، یا یمن میں امریکی فوجیوں کے مراکز میں جو ایذائیں دی جاتی ہیں ان کی وضاحت ہونا چاہیے ۔

گوانتانامو کا مرکز در اصل وہ جیل خانہ ہے جو کیوبا کے جنوب مشرق کے گرم علاقوں میں ہے ،یہ جیل خانہ امریکی حکومت اور کیوبا کی سابقہ حکومت کے مابین ایک اجارے کی قرار داد کے تحت سال ۱۹۰۳ سے امریکی نیوی کے اختیار میں ہے ۔

کیوبا میں انقلاب کی کامیابی کے بعد ،فیڈریل کاسٹرو نے امریکی فوجیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ اس کے ملک سے چلے جائیں ،لیکن امریکہ کی حکومت نے آج تک ان کی درخواست نہیں مانی ہے ۔امریکی ہر سال اس جزیرے کے کرائے کے طور پر ایک چیک ھوانا بھیج دیتے ہیں ،اور کیوبائی حکام بھی ہر سال اس کو کیش کرنے سے انکار کر دیتے ہیں ۔

وہ افراد کہ جن پر امریکی مفادات پر حملہ کرنے کا شبہ ہو تا ہے ان کو اس جزیرے میں رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ امریکی ان لوگوں کو ،جنگی قیدیوں کے لیے بین الاقوامی کنوینشن میں درج حقوق سے محروم کرنے کے ساتھ ،اپنی سر حدوں سے باہر ان کو رکھ کر ،ان کو امریکی عدالتوں کے دائرے میں مستقر قیدیوں کے حقوق سے بھی محروم کرنا چاہتے ہیں ۔

جو لوگ امریکی عدالتوں کے دائرے میں پکڑے جاتے ہیں وہ اپنے لیے وکیل کر سکتے ہیں اور پوچھ سکتے ہیں کہ ان کا گناہ کیا ہے جب کہ گوانتانامو کے قیدی ان حقوق سے بہرہ مند نہیں ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲