اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام کا مشرقی صوبہ دیر الزور وہ علاقہ ہے جس میں تیل کے بہت سارے کنویں موجود ہیں اور یہ علاقہ عراق کی سرحد پر واقع ہے جس کی وجہ سے داعش نے اس پر باآسانی قبضہ کر لیا تھا۔ اس صوبے کے رہنے والے لوگ اکثر خانہ بدوش ہیں اور انہوں نے داعش کے اس علاقے میں آتے ہی ان کی بیعت کر لی لیکن داعش کے ان کے ساتھ برے سلوک نے آخر کار انہیں اس دھشتگرد گروہ کے ساتھ لڑنے کے لیے مجبور کر دیا۔
تازہ ترین رپورٹ کے مطابق صوبہ دیر الزور کے تمام قبیلے شامی فوج کی صفوں میں شامل ہو گئے ہیں اور انہوں نے شامی فوج کے ساتھ مل کر داعش کے ساتھ جنگ شروع کر لی ہے۔
شامی فوجیں ریپبلکن گارڈ کمانڈر جنرل عصام زہرالدین کی رہبری میں صوبہ دیر الزور میں داعش کے ساتھ برسر پیکار ہیں اور اس صوبے کو داعش کے منحوس وجود سے پاکسازی کے لیے کاروائیاں شروع کر دی ہیں۔

دیر الزور کا نقشہ
شامی فوج نے شہر دیر الزور کے ایئرپورٹ کو اپنے کنٹرول میں لے کر دھشتگردوں پر شدید کاروائیاں کی ہیں جس کے بعد اس صوبے کے صرف چند گاوں ان کے قبضے میں باقی بچے ہیں۔ دیر الزور شہر کا ’’حویجہ صکر‘‘ نامی گاوں السیاسیہ پل کے قریب واقع ہے یہ پل شہر دیر الزور کو اس کے مضافات سے الگ کرتا ہے۔
شامی افواج نے گزشتہ چند ہفتوں کی کاروائیوں کے دوران حویجہ صکر کے بعض علاقے کو بھی داعش سے آزاد کروا لیا ہے اور مزید کامیابیوں کی طرف ان کے قدم رواں دواں ہیں۔

جنرل عصام زہرالدین
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ داعش کا عراق اور شام میں ایک ساتھ جنگ کرنا اس کی توانائیوں کے کمزور ہونے کا باعث بنا ہے جس کی وجہ سے داعش کو بہت جلدی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
شامی افواج کا جمہوری حکومت کے سائے میں منظم طریقے سے داعش کا مقابلہ کرنا روز بروز ان کی کامیابیوں میں اضافے کا سبب بنا ہے اور عنقریب شامی فوج داعش کے منحوس وجود سے اپنے ملک کو پاک کر دے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲