اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پارليمنٹ کے اسپيکر ڈاکٹر علي لاريجاني نے پير کو سپاہ پاسداران کے کمانڈر، جنرل حسن طہراني مقدم کي شہادت کي مناسبت سے منعقدہ ہونے والي ميزائيلي اقتدار کے زيرعنوان ايک کانفرنس ميں کہا کہ ملت ايران کے بعض عظيم کارنامے شہيد طہراني مقدم کے اقدامات اور ان کے کاموں کي بدولت انجام پائےہيں-
ڈاکٹرعلي لاريجاني نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اگر آج مشرق وسطي ميں ميزائيلي قوت کے اعتبار سے ايک اہم ملک ہے تو اس کي وجہ، ايران کي دفاعي اور ميزائيلي قوت ہے -
ايران کي پارليمنٹ کے اسپيکر ڈاکٹرلاريجاني نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ ايران علاقے ميں ميزائيلي قوت کے اعتبار سے سب سے زيادہ طاقتور ملک ہے کہاکہ اس کے باوجود اسلامي جمہوريہ ايران کسي بھي ملک کے خلاف مہم جوئي کا ارادہ نہيں رکھتا اور وہ اپني اس طاقت کو اپنے دفاع اور علاقے ميں امن وسلامتي کے لئے ہي بروئے کار لائے گا -
ڈاکٹرلاريجاني نے کہا کہ علاقے کے سبھي ممالک جانتے ہيں کہ اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد ايران نے کبھي بھي کسي ملک کے خلاف جارحيت نہيں کي اور وہ ہميشہ علاقے ميں پائيدار امن کي ہي کوشش کرتا رہا ہے -
پارلمينٹ کے اسپيکر نے کہاکہ ايران پرعراق کي بعثي حکومت کي جنگ دوسرے ملکوں نے مل کرمسلط کي اور ايران نے اس وقت بھي صرف دفاع کيا-
انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد ايران کے پاس يہ طاقت تھي کہ وہ انتقام لے سکتا تھا ليکن اس نے ايسا نہيں کيا جبکہ علاقے کے بعض ممالک ايران سے عداوت رکھتے تھے -
ڈاکٹر علي لاريجاني نے علاقے ميں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو ايک نيا فتنہ قرارديا اور کہا کہ اس قسم کے اقدامات کا مقصد مسلمانوں ميں اختلافات اور مايوسي پيدا کرنا ہے تاکہ ان کي توانائي برباد ہوجائے-انہوں نے کہا کہ اسلامي ممالک کے ايک دوسرے سے برسرپيکار رہنے کي صورت ميں سب سے زيادہ فائدہ صيہوني حکومت کوپہنچے گا -
.......
/169