اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق داعش پر پیٹرو ڈالر خرچ کرنے والے اور اسے عسکری تربیت اور ٹنوں جدید ہتھیار فراہم کرنے والے اگر چہ اب دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر نام نہاد اتحاد تشکیل دے کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتے ہیں، لیکن یہ حقیقت اب سب پر آشکار ہو چکی ہے کہ شام اور عراق میں لاکھوں بے گناہ جانوں اور سسکیوں کا ذمہ دار کون ہے۔
داعش کو سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ نے مل کر جنم دیا ہے، اس لیے اس دہشت گرد گروہ میں نہ صرف دنیا بھر کے تکفیری جوان بھرتی ہو رہے ہیں بلکہ شدت پسند یہودیوں کے لیے بھی یہ گروہ کشش کا باعث ہے۔
یورپی اور اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، حال ہی میں ایک فرانسسی یہودی لڑکی کہ جس کی عمر صرف سترہ برس ہے داعش میں شامل ہونے کے لیے ترکی کے راستے شام پہنچ چکی ہے۔
داعش میں شامل ہو کر بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے والی یہ پہلی صیہونی نہیں ہے بلکہ موصولہ رپورٹوں کے مطابق، اس قبل بھی متعدد صیہونی شدت پسند داعش کے لیے لڑ رہے ہیں۔
ٹائمس آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق داعش میں شامل ہونے والی صیہونی دوشیزہ کی شناخت سارا کے نام سے ہوئی ہے، وہ فرانس کی ان نوجوان خواتین میں شامل ہے جن کے بارے میں فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ داعش میں شامل ہو چکی ہیں۔
یورپی اور امریکی حکومتوں کا کہنا ہے کہ ان کے سیکڑوں شہری داعش میں شامل ہو چکے ہیں اور شام اور عراق میں پرتشدد کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
.......
/169