28 اکتوبر 2014 - 07:24
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کا عمل قابل مذمت ہے

یورپی یونین نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاروں کے لیے غیر قانونی نئی بستیوں کی تعمیر کے کام میں تیزی لانے کے صیہونی حکومت کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ امور کی ترجمان ماجا کوسیجانسیک نے پیر کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اس اعلان کی مذمت کی کہ صیہونی حکومت مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں مزید ایک ہزار ساٹھ غیر قانونی گھروں کی تعمیر کرے گی۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی ترجمان نے کہا کہ اگر اس فیصلے کی تائید ہو جاتی ہے تو یہ فلسطینیوں کے ساتھ مذاکراتی حل کے اسرائیل کے عہد پر سوالیہ نشان ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین صرف و صرف غلط وقت پر لیے گئے اس غلط فیصلے کی مذمت کر سکتا ہے۔

یورپی یونین کی ترجمان کا کہنا تھا کہ یورپ اور اسرائیل کے درمیان مستقبل میں تعلقات میں فروغ کا انحصار نام نہاد دو ریاستی حل کی بنیاد پر پائیدار امن قائم کرنے کے اسرائیلی حکومت کی کوششوں پر ہوگا۔

واضح ہو کہ ایک اندازے کے مطابق مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اب تک غیر قانونی 120 بستیوں میں پانچ لاکھ سے زائد صیہونی آباد ہوچکے ہیں۔

یہ وہ علاقے ہیں جن پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں کیا تھا جو دیگر فلسطینی مقبوضات کی طرح تاحال برقرار ہے۔

اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اس مقبوضہ علاقوں میں صیہونی حکومت کی غیر قانونی تعمیرات کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور جنیوا کنونشن کے خلاف قرار دیتی ہے۔
.......

/169