4 اکتوبر 2014 - 08:51
پاکستانی فورسز میں دہشت گردوں کے حامی سلفی وہابیوں کی کافی تعداد

ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اندر طالبان دہشت گردوں کے حامی سلفی وہابی اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود ہے جسے پاکستان کے امن و سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ قراردیا جارہا ہے پنجاب کے سابق گورنر کا سکیورٹی اہلکار کے ہاتھوں قتل اور کراچی میں بحریہ کے جہازوں پر حملے اس بات کا واضخ ثبوت ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اندر طالبان دہشت گردوں کے حامی سلفی وہابی اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود ہے جسے پاکستان کے امن و سلامتی کے لئے بہت بڑا خطرہ قراردیا جارہا ہے پنجاب کے سابق گورنر کا سکیورٹی افسرریٹائرڈ کرنل انعام کے ہاتھوں قتل اور کراچی میں بحریہ کے جہازوں پر حملے اس بات کا واضخ ثبوت ہیں۔ پاکستانی فوج کے ایک سابق اہلکار کا کہنا ہے کہ ’یہ خوش آئند ہےکہ نیوی نے پہلی بار کھلے عام تسلیم کیا کہ حملوں میں سابق اہلکار شامل ہیں اورگرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ایسے حملوں کی تحقیقات کو ہمیشہ دبا دیا جاتا ہے اور یہاں تک کہ پارلیمان کی دفاعی کمیٹی کو بھی نہیں بتایا جاتا ہے کہ آخر حملہ کیسے اور کیوں پیش آیا۔ اس میں ملوث افراد کو کیا سزا دی گئی جو کہ مغربی دنیا میں اپنائے جانے والے طریقوں سے برعکس ہے۔ ریٹاٹرڈ کرنل انعام کے مطابق’سکیورٹی فورسز کی جانب سے تحقیقات کو خفیہ رکھنا اور ملوث اہلکاروں کے خلاف موثر سزا کا تعین نہ کرنے جیسی وجوہات کی وجہ سے انفلٹریشن یعنی سرایت بڑھ رہی ہے۔‘

انھوں نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ’ کامرہ ایئر بیس پر حملے میں چاہے حملہ آوروں کو اندرونی مدد حاصل ہو یا نہ ہو مگر یہ واقعہ بیشتر اہلکاروں کی مجرمانہ غفلت کو ظاہر کرتا ہے لیکن اس کا ذمہ دار سب سے چھوٹے رینک کے اہلکاروں یعنی نائیک اور سپاہیوں کو ٹھہرایا گیا۔ریٹائرڈ ایئر مارشل شہزاد چوہدری نے تسلیم کیا کہ فورسز کے اندر اب بھی دہشت گردعناصر موجود ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز بڑی حد تک سیکولر اور ضبط کی پابند ہیں۔پاکستان میں نیم فوجی دستوں اور مسلح افواج میں اہلکاروں کی تعداد ساڑھے سات لاکھ ہے اور اس میں سےگذشتہ دس برسوں میں اگر 10 ، 15 یا 20 لوگ انتہا پسند نکلتے ہیں تو یہ تعداد پریشان کن تو ہے مگر ظاہر ہے کہ بہت کم ہے اور اس کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا نہیں چاہیے۔

.......

/169