اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پارلیمانی ممبر علی البديري نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے دہشت گردوں نے محاصرے میں گھرے چار سو فوجیوں کے خلاف پہلی بار کلورین گیس کا استعمال کیا جس میں بڑی تعداد میں فوجی ہلاک جبکہ اس چھاؤنی میں دہشت گردوں نے کار بم کا دھماکہ بھی کیا۔ البديري کا کہنا تھا کہ الصقلاويہ چھاؤنی کا جرائم، اسپائكر چھاؤنی میں ہونے والے جرائم کے بعد دوسرا سب سے بڑا جرم ہے جس میں تین سو فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
اس سے قبل الانبار فوجی مہم کے کمانڈر نے پیر کو اس بات کی تردید کی تھی کہ شمالی فلوجہ کے سیجر علاقے میں محاصرے کا سامنا کر رہے فوجیوں کا کوئی موبائل فون داعش کے قبضے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ فوجی لاپتہ ہے جن کی تلاش جاری ہے۔
اس سے قبل کچھ میڈیا حلقوں نے دعوی کیا تھا کہ زیادہ تر فوجیوں کے مارے جانے کے بعد الصقلاويہ پر داعش کا کنٹرول ہو گیا ہے اور بچے ہوئے فوجیوں نے اپنے ساتھیوں کے موبائل پر فون کرکے ان کا حال احوال جاننا چاہا تو اس کا جواب داعش کے دہشت گردوں نے دیا ۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ فوج نے شمالی فلوجہ کے علاقے میں دہشت گردوں کا محاصرہ توڑ دیا ہے۔
فوج کے ترجمان قاسم عطا کا کہنا تھا کہ اتوار کو ہمارے فوجی شمالی فلوجہ کے الصقلاويہ علاقے میں داخل ہو گئے ہیں اور اس علاقے میں فوج کی کارروائی جاری ہے۔
.......
/169