اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مشرقی غوطہ اور جوبر علاقوں میں فوج کے جنگی طیاروں نے دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں پر بمباري کی۔ شامی فوج اس علاقے میں آپریشن کر رہی ہے تاکہ دارالحکومت دمشق پر ہونے والے مارٹر حملے بند ہو جائیں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک اس کی پہنچ آسان ہو جائے۔
مشرقی غوطہ علاقے کو دارالحکومت دمشق کے مشرق میں دہشت گردوں کا اہم ٹھکانا سمجھا جاتا ہے۔ دہشت گرد، كباس اور دخانيہ علاقوں پر حملے کررہے تھے جس کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگ اپنے گھربار چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوئے تھے۔
حماۃ صوبے میں بھی شامی فوج نے كفرہود اور الجديده نامی علاقوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے چھڑا لیا ہے۔
فوج نے لبنان کی سرحد کے قریب جبرود میں دہشت گردوں پر گھات لگا کر کارروائی کی جس میں بہت سے غیر ملکی دہشت گرد مارے گئے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں شام کے نمائندے بشار جعفری نے کہا ہے کہ جبہۃ النصرۃ کے دہشت گردوں نے جولان کی پہاڑیوں کے سارے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور اقوام متحدہ کی امن فوج کو وہاں سے نکال باہر کیا ہے۔
پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بشار جعفری نے منگل کو نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد گردہ جبہۃ النصرۃ نے جولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا ہے اور اقوام متحدہ کی امن فوج سے ہتھیار ، وردیاں ، لباس اور گاڑیاں چھین لی ہیں۔
اقوام متحدہ میں شام کےنمائندے بشار جعفری نے مزید کہا کہ ان دہشت گردوں نے حملے کرنے کے لئے جولان کی پہاڑیوں میں ایک محفوظ ٹکھانہ بنا رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دہشت گرد اقوام متحدہ کی گاڑیوں میں سوار ہوکر اور امن فوجیوں کی وردیاں پہن کر شام کی فوج اور عام شہریوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
.......
/169