15 ستمبر 2014 - 13:35
ایران کے بارے میں بان کی مون کی تکراری رپورٹ

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں جنرل اسمبلی کو ایک رپورٹ پیش کی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں جنرل اسمبلی کو ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے صدر نے آزادی بیان کے سلسلےمیں پابندیاں اٹھائے جانے اور میڈیا کوسیکورٹی کی ضمانت فراہم کرنے کا وعدہ کرنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا ہے۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی رپورٹ میں اسی طرح یہ بھی دعوی کیا گيا ہے کہ ایران میں مذہبی اور قومی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک، قانونی اور عملی دونوں صورت میں نظر آرہا ہے۔اس رپورٹ ميں بان کی مون نے انسانی حقوق کے پروپگنڈے کے تسلسل میں گذشتہ ایک سال کے دوران عدالتی مجرموں کو پھانسی کی سزا پانے والوں کی تعداد کے بارے میں اظہار تشویش کیا ہے۔یہ رپورٹ اسی رپورٹ کا چربہ ہے جو چند ماہ قبل ایران کے بارے میں انسانی حقوق کے خصوصی رپورٹر احمد شہید نے شائع کی تھی۔ بان کی مون نے اپنی اس سالانہ رپورٹ میں، ان ہی بے بنیاد دعووں کو، ایران میں انسانی حقوق کی تشخیص کامعیار قرار دیا ہے ۔ ایران کے بارے ميں انسانی حقوق کے تکراری دعوے شاید بعض مغربی میڈیا کے لئے دلچسپ اور جاذب نظر ہوں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اس طرح کی رپورٹیں پیش کرنے کامقصد ملکوں میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مبھم اور تاریک بناکر پیش کرناہے۔ چنانچہ بان کی مون نے ایران میں انسانی حقوق سے متعلق وہی تصویر پیش کی ہے کہ جسے احمد شہید نے ایران کے بارے میں بے بنیاد دعووں کے ساتھ پیش کی تھی۔ایران میں شہری آزادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں ایسے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں رپورٹ کی گئی ہے کہ اس وقت مغرب کی جانب سے انسانی حقوق کی خوفناک اور آشکارہ خلاف ورزی کے سلسلے میں ایسے بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں کہ جن کا جواب دہ اقوام متحدہ کو ہونا چاہئے۔ عالمی رائے عامہ کو بان کی مون سے یہ توقع ہے کہ وہ مغرب کی جانب سے انسانی حقوق کے مسئلےکو ہتھکنڈہ بنائے جانے کی روک تھام کریں گے ۔ انسانی حقوق سے متعلق سیاسی رپورٹوں کے اہداف پر نظر ڈالنے سے یہ بات بہت واضح ہوجاتی ہے کہ ان رپورٹوں کے درمیان بامقصد رابطہ ہے اور مغرب، ایران میں ایٹمی سرگرمی، دہشت گردی کی حمایت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی جیسے جھوٹے پروپگنڈے اور دعوے کرتا رہتا ہے جس میں کسی تجزیہ و تحلیل کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ مغرب کا مقصد، ایران میں سماجی و سیاسی صورتحال سے متعلق برعکس تصویریں پیش کرکے لوگوں میں ایران سے خوف وہراس پیدا کرنا ہے۔ لہذا یہ رپورٹ اس سے قطع نظر کہ کس ادارے یا کس تنظیم نے تیار کی ہے، اس کے دوہرے معیار کا حامل ہونا واضح ہوجاتا ہے۔انسانی حقوق کے مسئلے کے بارے ميں کوشش کرنا، بلاشبہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے لیکن ایساخیال کیا جاتا ہےکہ بان کی مون نے اس ذمہ داری کے خلاء کو نظر انداز کردیا ہے یا کم از کم وہ اس پر توجہ نہیں کر رہے ہیں۔اسلامی جمہوریۂ ایران کا ماننا ہے کہ انسانی حقوق ایک ایسا اہم مسئلہ ہے جسے عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہےلیکن اس وقت یہ مسئلہ بڑی طاقتوں کے ہتھکنڈے میں تبدیل ہوگیاہے۔ آج انسانی حقوق کی حقیقی خلاف ورزی کرنے والوں کی شناخت اور پہچان کے لئے کسی خصوصی رپورٹر کے تعین کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف کافی ہےکہ مغرب کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹوں پر اجمالی نظر ڈالی جائے۔ یہ رپورٹیں، مغربی معاشروں میں، انسانی حقوق اور آزادی بیانکی خلاف ورزی، خفیہ جیلوں میں قیدیوں کو بدترین ایذائیں دیئے جانے، عورتوں اور بچوں پر بے پناہ مظالم ، سیاہ فاموں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک اور مسلم سماج کی مخالفت کی غماز ہیں اور یہ وہ چیزیں ہیں جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی واضح مصداق ہیں۔ لیکن امریکہ اور یورپ میں انسانی حقوق کے دعویداروں نے ان حقائق اور اسرائیل کے انسانیت سوز جرائم پر اپنی آنکھیں بند کررکھی ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بہانے ایران کے خلاف ایسی رپورٹ شائع کررہے ہيں جو مکمل طور پر سیاسی مقاصد کے لئے ہے۔

.......

/169