اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں جمہوریت کا شور مچانے والے 70 فیصد ارکان ٹیکس چور ہیں، حکمران عوام کے مینڈیٹ سے نہیں، دھاندلی پر مشتمل مینڈیٹ سے اقتدار میں آتے ہیں، اسلام آباد میں انقلاب مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ انقلاب کے بعد منتخب شخص کا کوئی خونی رشتہ دار پارلیمنٹ میں نہیں آ سکے گا، انقلاب مارچ سراسر آئینی ہے، ہم اٹھارہ کروڑ عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کا پیسہ حکمرانوں کے محلات پر خرچ ہو رہا ہے، حکمران جسے آئین، جمہوریت اور ووٹ کہتے ہیں، وہ سراسر دھن، دھونس، دھاندلی اور دھوکہ دہی ہے، انہوں نے کہا کہ روزانہ آٹھ ارب روپے صرف کرپشن کی نظر ہوتے ہے، ہر ماہ پچھتر ارب روپے تین ائیر پورٹس سے غیر ملکوں کو سمگل ہوتے ہیں، انہوں نے کہاکہ کوئی ملک اپنے قومی مفادات کی سودے بازی نہیں کرتا، یہاں پورا ملک ہی گروی رکھ دیا جاتا ہے۔
علامہ طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ حکومت بیرونی قرضوں کا سالانہ سود بھی ادا نہیں کرسکتی، ساری معیشت غیر ملکی قرضوں پر چل رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ آئین زندہ ہوتا تو عوام کو انقلاب کیلئے یہاں نہ آنا پڑتا، آئین زندہ ہوتا تو لوگوں کو ان کے حقوق ملتے، طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ارکان کو زمینی حقائق کا ادراک ہی نہیں، کینٹینر میں جدید سہولیات کی جھوٹی باتیں کرنے والے ارکان پارلیمنٹ خود آکر دیکھ لیں، لوگوں کو کینٹینر میں درویشی کے عالم کا علم ہی نہیں، اس موقع پر انہوں نے دھرنے میں شریک سندھ اور بلوچستان کے کارکنوں کو کروڑ بار سلام کرتے ہوئے کہاکہ یہ لوگ غریب کے حقوق کیلئے ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے اپنے گھروں سے باہر ہیں۔
دیگر ذرائع کے مطابق، علامہ طاہر القادری کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ غیر جمہوری، غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہے، پارلیمنٹ میں عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے، آئین زندہ ہوتا تو انقلاب کیلئے لوگوں کو نہ آنا پڑتا، ہم برابری کا نظام لانا چاہتے ہیں، سارا ملک سوداگروں کے ہاتھ میں آگیا، ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ اسلام آباد میں 28 روز سے جاری دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے کہا کہ پارلیمنٹ ميں بیٹھے افراد کو زمینی حقائق کا کوئی ادراک نہیں، ارکان پارليمنٹ مردہ آئين کو زندہ کرنا چاہتے ہيں، پارليمنٹ ميں عوام کو دھوکا ديا جاتا ہے، آئين زندہ ہوتا تو انقلاب کيلئے لوگوں کو آنا نہ پڑتا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم برابری کا نظام لانا چاہتے ہيں، معاشرے ميں معاشی آزادی نہ ہو تو جمہوريت ممکن نہيں، معيشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی، قوم کو معاشی طور پر گروی رکھ ديا گیا، سارا ملک سوداگروں کے ہاتھ میں آگیا۔ طاہر القادری کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ غیر جمہوری، غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہے، پاکستان واحد ملک ہے جس کے کوئی قومی مفاد نہیں، پارلیمنٹ میں بیٹھے 70 فیصد افراد ٹیکس چور ہیں، چند سو خاندانوں کی گرفت کا پنجہ مروڑ کر رکھ دیں گے۔
.......
/169