اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ داعش نامی دھشتگرد گروہ کہ جو تاہم عراق اور شام میں دھشتگردانہ کاروائیاں انجام دینے میں مصروف ہے اور دنیا کے دسیوں دیگر ممالک سے دھشتگردوں کو اپنے گروہ کی طرف جذب کرنے میں کامیاب ہوا ہے کماکان اپنی تعداد میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے!
یہ گروہ جس نے اس سے قبل جرمنی، ترکی اور انڈونیشیا میں کھلے عام اپنی تشہیری مہم چلا کر کئی گمراہ قسم کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اگر چہ اس دوران اکثر مسلمانوں نے اس کی نسبت اپنی نفرت کا اظہار کیا تاہم وہ اپنی فعالیتوں کا دائرہ وسیع کرنے میں مشغول ہے۔
داعش کے عناصر نے جرمنی کے ایک علاقے میں چند ماہ قبل ایک اجتماع کا اہتمام کیا جس کا جرمنی پولیس نے شدید نوٹس لیا۔ اس اجتماع میں داعش کے حامی دسیوں افراد نے اس دھشتگرد گروہ کے پرچم کو اٹھا کر داعش اور ابوبکر البغدادی کی حمایت میں نعرے لگائے جس کے بعد جرمنی پولیس نے ان کے خلاف کاروائی کر کے انہیں بھگا دیا۔

ترکی بھی ان ممالک میں سے ایک ہے جسے اس دھشتگرد گروہ اور دیگر ممالک کے درمیان رابطے کا پل کہا جا سکتا ہے کیوں کہ دیگر ممالک سے جتنے بھی دھشتگرد اس گروہ میں شامل ہوتے ہیں وہ ترکی ہی کے ذریعے عراق و شام پہنچتے ہیں۔
ترکی میں داعش کی علامت کے ساتھ مختلف چیزیں جیسے ٹی شرٹ، گلاس، کپ، گلے کا ہاراور روسریاں وغیرہ تیار کی جاتی ہے۔

یہاں تک کہ اس سال حج کے موسم میں بھی داعش کے عناصر کی موجودگی کا قوی احتمال پایا جاتا ہے اس دھشتگرد گروہ کا منصوبہ ہے کہ وہ حاجیوں کے لباس میں بیت اللہ الحرام میں داخل ہو کر لوگوں کو اس گروہ میں شامل ہونے کی تبلیغ کرے۔
لیکن تازہ ترین رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں اس دھشتگرد نے پاکستان اور افغانستان میں بھی کھلم کھلا طور پر اپنی تشہیری مہم کا آغاز کر دیا ہے اس گروہ نے ’’فتح‘‘ نامی پشتو زبان میں ایک رسالہ چھاپ کر اس میں اپنے اہداف و مقاصد کو بیان کیا ہے۔

پاکستان سے ابنا کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق داعش کی تشہیر پر مبنی فتح نامی یہ رسالہ جو پشاور کی ایک بک ایجنسی کے پاس موجود ہے داعش کے اغراض و مقاصد کو بیان کرتا ہے۔ اس رسالے میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ داعش کی طرف سے انجام پانے والی دھشتگردانہ کاروائیوں کو اسلامی جہاد کا رنگ دیا جائے تاکہ لوگ دھوکہ کھا کر اس دھشتگرد گروہ میں شامل ہوں۔
واضح رہے کہ اس جرائم پیشہ گروہ کا وجود عربی و غربی ممالک کی خود خواہیوں کا نتیجہ ہے جو اب خود کو اس سے دور کرنے اور اپنے کئے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اس لیے کہ اب داعش دنیا بھر کے لیے ایک خطرناک ترین ہیولا بن کے سامنے آیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲