1 ستمبر 2014 - 15:52
 مذاکرات کا بنیادی موضوع ایران پرعائد پانبدیاں،عراقچی

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مغرب کو چاہیے کہ وہ پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایران کے مذاکرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظوری دلوائے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مغرب کو چاہیے کہ وہ پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایران کے مذاکرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظوری دلوائے۔ سید عباس عراقچی نے جو وزارت خارجہ میں بین الاقوامی اور قانونی امور کے شعبے کے سربراہ ہیں ایک انٹرویو میں کہا ہےکہ پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ مذاکرات کا ایک بنیادی موضوع ایران پرعائد پانبدیاں ہیں اور اگر ان پابندیوں کے خاتمے کے لئے اگر کوئي سمجھوتہ نہیں ہوتا ہے تو کوئي معاہدہ نہیں ہوگا۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ جینوا کے عارضی معاہدے میں بھی اس بات پر تاکید کی گئي ہےکہ حتمی معاہدے میں جامع طریقے سے پابندیاں ہٹادی جائيں گي۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار نہیں ہوئے ہیں تاہم مذاکرات کی کچھ گتھیاں ہیں جو اگر سلجھا دی جائيں تو حتمی معاہدے کی راہ ہموار ہوجائے گي۔ انہون نے کہا کہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کا معاہدہ اس وقت قابل اعتبار ہوگاجب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک قرارداد میں اس کی تائيد کرے گي اور اس طرح اس معاہدے کو سرکاری اور عالمی حیثیت حاصل ہوجائے گی اور اس پر عمل درآمد لازمی ہوجائے گا۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ یورپیوں کے لئے پابندیوں کا ہٹانا آسان ہے اور یہ توقع کی جارہی ہےکہ یورپی ممالک پابندیاں ہٹانے کا کام تیزی سے انجام دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ایک ٹائم فریم معین کیاجائے گا جس کی رو سے اگر ہمارے مد مقابل نے اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہ کیا ہوتو ایران بھی عمل درآمد روک دے گا۔ ایران کے نائب وزیرخارجہ نے کہاکہ مذاکرات میں شامل امریکی ماہرین قانون نے ہمیں اطمینان دلایا ہے کہ صدر اوباما کانگریس کی جانب سے لگائي جانے والی پابندیوں کو ویٹو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی سیاسی ٹیم نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کار ٹیم رہبرانقلاب اسلامی کے معین کئے ہوئے حدود میں کام کررہی ہے۔

.......

/169