اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے ریڈ زون کی جانب جانے والا راستہ اسلام آباد انتظامیہ نے کنٹینر اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا ہے لیکن اس کے باوجود تحریک انصاف کے کارکن بڑی تعداد میں ہاتھوں میں پرچم اٹھائے ریڈ زون کی جانب بڑھ رہے ہیں جس سے صورتحال کشیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ریڈ زون میں داخلے کی دھمکی کے بعد تحریک انصاف کے جلسے کا مقام تبدیل کرنے پر غور جاری ہے۔
ریڈ زون میں داخلے کی کوشش پر عمران خان سمیت پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
بم ڈسپوزل پاکستان تحریک انصاف کے آبپارہ میں پنڈال اور سٹیج کی سرچنگ کر رہا ہے جس کے بعد اردگرد علاقے کی بھی سرچنگ کی جائیگی۔
پولیس کی اضافی نفری اور مسلح کمانڈوز جلسہ گاہ پہنچ چکے ہیں۔ سی سی ٹی وی کیمرہ کی مدد سے جلسوں کی نگرانی کا عمل بھی جاری ہے۔ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے اسلام آباد میں دیگر صوبوں اور ریلوے پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کر لی گئی ہے۔
عمران خان کی جانب سے ریڈ زون میں داخلے کی دھمکی کے بعد سیکورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے خفیہ اہلکار پی ٹی آئی قائدین کی خفیہ نگرانی پر مامور ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ریڈ زون میں داخلے کی مصدقہ اطلاع آنے پر انتہائی سخت اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جلسہ گاہ میں جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد اور دیگر شہروں سے بڑی تعداد میں کارکنوں کی آمد متوقع ہے۔
.......
/169