اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم کا مقبوضہ کشمیر میں ’’زعفران انقلاب‘‘ لانے کا ذو معنی اعلان ،خود بھارت میں متنا زع ہوگیا۔مو دی نے پاکستان پر ، پراکسی وار الزام بھی داغ دیا۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقہ Leh میں خطاب کرتےہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے’’زعفران انقلاب‘‘کا اعلان کیا ۔ زعفرانی یا کیسری رنگ اُن کی جماعت بھارتیا جنتا پارٹی کا بھی رنگ ہے ۔ تاہم معاملہ کی نزاکت کے پیش نظر انہوں نے فوراًہی اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ زعفران کی بات کررہے ہیں۔زعفران انقلاب سے کشمیر میں زعفران کی کاشت کرنے والے کسانوں کو فائدہ ہوگا۔تاہم اُن کی وضاحت نے بھی لوگوں کے اِن شکوک کو ختم نہیں کیا کہ مودی مقبوضہ کشمیر میں بھارتیا جنتا پارٹی کا اثر بڑھاناچاہتے ہیں ،جہاں بی جے پی ابھی تک اجنبی ہے۔ نریندر مودی نے الزام لگایا کہ پاکستان پراکسی جنگ میں مصروف ہے ، جس سے بھارتی افواج کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے ۔انہوں نے سیاچن پر پاکستان سے کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے بھی انکار کردیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان کے تمام خدشات اور تحفطات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کارگل کے قریب تعمیر کئے گئے نیمو باز ڈیم سے بجلی کی پیداوار کا افتتاح کیا ۔ نریندرمودی 1999 کے بعد کارگل کا دورہ کرنے والے پہلے وزیراعظم ہیں۔
.......
/169