10 اگست 2014 - 14:36
عراق، امریکا کے ٹارگيٹڈ حملے جاری

امریکا کے فوجی ذرائع کے مطابق امریکی طیاروں نے عراق میں داعش کے مختلف ٹھکانوں پر مزید چار حملے کئے ہیں۔

 اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اس خصوصی فوجی کارروائی میں امریکی فضائیہ کے جنگی طیاروں کے علاوہ امریکی ڈرون طیاروں نے بھی حصہ لیا۔ ان حملوں میں دہشت گردوں کی کئی بكتربند گاڑیاں اور ایک ٹرک تباہ ہوئے جن کا استعمال دہشت گرد عوام شہریوں پر حملہ کرنے کے لئے کیا کرتے تھے۔

امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فوجی کارروائی بہت کامیاب رہی ہے۔ اس کارروائی کے دوران کتنے لوگ مارے گئےہیں اس کی اطلاع ابھی موصول نہیں ہو سکی ہے۔
اس سے پہلے امریکا کے صدر باراک اوباما نے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی فضائیہ عراق میں انتہا پسندوں پر حملے جاری رکھے گی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ حملے شمال عراق میں کام کرنے والے امریکی سفارت کاروں اور عسکری مشیروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے کئے جا رہے ہیں۔
امریکا نے دعوی کیا کہ داعش کے دہشت اربيل کے قریب پیشمرگہ فورسز پر توپوں سے گولہ باری کر رہے تھے اور اربيل میں امریکی ملازمین کو دھمکا رہے تھے۔ پینٹاگون کے پریس سیکریٹری رئیر ایڈمرل جان كربي نے کہا کہ صدر واضح کر چکے ہیں کہ اگر داعش ہمارے اہلکاروں اور تنصیبات کے لئے خطرہ بنتے ہیں تو امریکی فوج اس کے خلاف براہ راست کارروائی جاری رکھے گی۔
یہ حملہ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 1 بج کر 45 منٹ پرعراقی كردستان کے مرکز اربيل کے قریب داعش کے ٹھکانوں پر بمباری سے شروع ہوا جس کا مقصد امریکی فوجیوں کی حفاظت کرنا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ عراق میں قومی آشتی کی حکومت کی تشکیل سے دہشت گرد گروہ کی جانب سے پیدا کئے جانے والے خطروں کو دور کیا جا سکتا ہے۔
سنیچر کی شام کو نشر ہونے والے بیان میں انہوں نے عراق کی تمام سیاسی جماعتوں سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ آئین میں طے وقت کے اندر تمام عراقی طبقات کی نمائندگی کرنے والی نئی حکومت کی تشکیل کرکے نئے وزیر اعظم کے نام کا اعلان کریں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی قومی آشتی کی حکومت عوام کو اس خطرے کے خلاف جدوجہد کرنے کے لئے کھڑا کر دے گی جو شدت پسند کی جانب سے پیدا کی جا رہی ہے اور اس وقت ملک میں سیکورٹی اور استحکام بحال ہو جائے گا۔
.......

/169