اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے غزہ کے مظلوم و بے بس عوام پر جاری اسرائیلی بربریت اور بے تحاشا خونریزی پر عالمی برادری کے غیرذمہ دارانہ رویہ اور اسلامی ممالک کی خاموشی کو انتہائی شرمناک اور انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے عالم اسلام کے موجودہ حالات کو ملت اسلامیہ کے فنا و بقاء کے حوالے سے ایک فیصلہ کن مرحلے سے تعبیر کیا ہے ۔
موصولہ بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر آج دنیائے اسلام غزہ میں اپنے مظلوم بھائیوں کے خون و خرابے کو روکنے کیلئے کوئی اقدام نہیں کرسکی تو کل اسرائیل کسی اورمسلمان ملک پر جارحیت کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے نہتے عوام پر اسرائیل ایک ماہ سے مسلسل تباہ کن بم اور میزائل گرارہا ہے لاتعداد مردو زن اور بچے موت کی نیند سلائے جاچکے ہیں ۔ اسرائیل تمام بین الاقوامی قوانین اور انسانیت کے اصولوں کوپاؤں تلے روند کر ظلم و بربریت کی ایک نئی تاریخ رقم کررہا ہے ۔ دنیا کا کوئی بھی ذمہ دار ملک ان مظلومین کی ہمدردی کیلئے کوئی موثر اقدام نہیں کرتا ۔ اسلامی ممالک کی اس حوالے سے دانستہ بے بسی ایک ملی المیہ ہے۔آغا سید حسن نے کہا کہ مغرب کی اسلام دشمن قوتوں نے دنیائے اسلام کے امن و اتحاد کو درہم برہم کرنے کی ایک گھناونی منصوبہ بندی کے تحت غزہ سے لیکر عراق و شام تک خون و خرابے کا نیا سلسلہ شروع کررکھا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ عراق میں بر سر پیکار محارب جماعت داعش اپنے نظریات اور کردار و عمل کے تناظر میں مسلمانوں کے کسی بھی فرقہ یا مسلک بلکہ بذات خود دین اسلام کی خیرخواہ نہیں ۔ اس جماعت کا ہر عمل اسلام دشمن قوتوں کے خاکوں میں رنگ بھر رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ جماعت واضح طور پر امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی جنگ لڑرہی ہے۔امریکہ اسرائیل کو ہر لحاظ سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے کسی بھی ایسے مسلمان ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے جہاں کی حکومتیں فلسطین کے مظلوم عوام کی سنجیدگی کے ساتھ اخلاقی ، سیاسی ، سفارتی حمایت کررہی ہیں۔اس سلسلے میں ایران ، شام اور عراق امریکہ اور اسرائیل کے نشانے پر ہیں۔ شام اور عراق کو تقسیم کرنے کا امریکی منصوبہ داعش کی وساطت سے عملانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس محارب تنظیم کو مظبوط سے مظبوط بنانے کیلئے امریکہ اور اسرائل کھلے عام بھر پور مالی معاونت کررہے ہیں۔ مغربی میڈیا عراق کی صورتحال کو شیعہ سنی رنگ دینے کی سر توڑ کوششیں کررہا ہے تاکہ دنیائے اسلام میں مسلکی منافرت کی آگ بھڑکاکر اپنے مقاصد حاصل کئے جاسکیں۔
آغا سید حسن نے کہا کہ اسلام اور خلافت کا نعرہ بلند کرنے والی تکفیری جماعت داعش نے اپنے افکار و نظریات اور روح فرسا کرتوت سے ثابت کر دکھایا کہ اس جماعت کا اسلام اور ملت اسلامیہ کے مفادات سے کوئی سر وکار نہیں۔ داعش کے ہاتھوں انبیائے کرامؑ اور اصحاب رسولؐ کے مرقد ہائے مقدسہ کی مسماری ، مساجد کی خاکستری، شیعوں کے ساتھ ساتھ درجنوں مقتدر علمائے اہلسنت کا بے دردانہ قتل اور برائے نام جہاد النکاح کے نام پر ہزاروں عفت مآب خواتین کی عصمت ریزیاں ایسے غیر اسلامی فعل ہیں جو نہ صرف قرآن و سنت کی کھلم کھلا توہین و تذلیل ہے بلکہ انسانیت کے روح کے منافی بھی ہیں۔ آغا صاحب نے واضح الفاظ میں کہا کہ عراق اور شام کی صورتحال کسی بھی طور پر مسلکی جنگ نہیں بلکہ سیاہ پرچم والی داعش امریکہ اور اسرائیل کا پیدا کردہ فتنہ عظیم ہے اور علمائے دین کا یہ منصبی فریضہ ہے کہ وہ معاملات سے بے خبر عام مسلمانوں کی غلط فہمیاں دور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲