اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ماسکو میں ’’پاکلان نیاگرامسجد‘‘ میں افطاری کے پروگراموں کے ساتھ ساتھ رمضان کیمپس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جن میں مذہب اہلبیت(ع) اور اسلامی جمہوریہ ایران کا تعارف کرایا جا رہا ہے۔

ان کیمپس میں منعقدہ ایک پروگرام میں ’’مسلمان عورت‘‘ نامی ایک رسالے کا تعارف بھی کرایا گیا جس کے ایڈیٹر نے مہمانوں کے سامنے اس رسالے کے متعلق وضاحت پیش کی۔
ماسکو سے ابنا کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق رسالے’’ مسلمان عورت‘‘ کی ایڈیٹر ’’لیڈی گلنار جمال‘‘ نے ماہ رمضان اور اس جریدے کی پانچویں سالگرہ پر حاضرین کو مبارک باد پیش کی اور کہا: جریدہ ’’مسلمان عورت‘‘ نے گزشتہ پانچ سالوں میں روس کے اندر اپنا نام کماتے ہوئے اس ملک کے برترین رسالوں میں اپنا مقام بنا لیا ہے۔




انہوں نے اس رسالے کے شائع کرنے کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہا: ہماری تلاش و کوشش یہ ہے کہ ہم روس کے مسلمانوں کے لیے مذہبی مواد فراہم کرنے کے علاوہ اس ملک کے لوگوں کو اسلام کے اندر پائی جانے والی مہر و محبت سے آشنا کریں۔


جریدہ ’’مسلمان عورت‘‘ کے ایڈیٹر کی تقریر کے بعد اس محفل میں ایک ویڈیو کلیپ دکھلایا گیا جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کی اسلامی معماری کے شاہکار نمونوں کی اس مجلے میں شائع شدہ تصاویر کو مجلے کی زینت کے طور پر پیش کیا گیا۔

اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ یہ رسالہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ایرانی خواتین سے وابستہ ہے اس ویڈیو میں ایرانی خواتین کی ان تصاویر کو نشر کیا گیا جو اسلامی حجاب کے ساتھ کھیل کے مختلف میدانوں میں مشغول ہیں۔ اس ویڈیو کلیپ میں اس چیز کو واضح طور پر پیش کیا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے مکمل طور پر آزادی نسواں پائی جاتی ہے جو صحیح معنی میں آزادی ہے۔


روس میں رمضان کیپمس کا انعقاد اور ان میں اسلام کے حقیقی چہرے کی تبلیغ ایسے حالات میں کی جا رہی ہے کہ تکفیری سلفی وہابی اسلام کے نام پر نفرت انگیز اقدامات کر کے دنیا میں اسلام کا حقیقی چہرہ مسخ کر رہے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں اسلام کی تئیں نفرتیں بھر رہے ہیں۔ تکفیریوں کی طرف سے ہونے والے اقدامات میں صنف نازک کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جو دوسرے معاشروں اور حقوق نسواں کے دعویداروں کی نظر میں اسلام کو مزید بدنام کئے جانے کا باعث ہے۔
اس پروگرام میں روس کی تازہ شیعہ شدہ خاتون ’’ایناستاسیا فاطمہ ایجاوا‘‘ نے اس رسالے کے ساتھ اپنے تعاون کا اعلان کرتے ہوئے اسلام اور ایران میں عورت کے حوالے سے گفتگو کی۔

ایناستاسیا فاطمہ جو ایران میں اپنے حالیہ سفر کے دوران مذہب اہلبیت(ع) کی نسبت تحقیق کے بعد شیعہ ہوئی نے مذہب تشیع کا بھی تعارف کرایا۔

اس پروگرام میں اسی طرح ایک ایرانی فلم جس کا روسی زبان میں ترجمہ ہوا ہے کا تعارف کرایا گیا۔

اس پروگرام میں ’’ ایک دن ایک مسلمان‘‘ کے عنوان سے ایک شارٹ ویڈیو کلیپ بھی پیش کیا گیا جو اس رسالے کے ایک رکن کے ذریعے تیار کیا گیا تھا جس میں ایک مسلمان کی روز مرہ کی زندگی کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا۔ ہے۔
اس پروگرام کے آخر میں ’’ایک دن ایک مسلمان‘‘ ویڈیو کلیپ تیار کرنے والی خاتون کو انعام سے نوازا گیا نیز رسالہ مسلمان عورت کے اہم کارکنوں کو بھی بہترین انعامات دئے گئے۔












آخر میں دیگر ادیان و مذاہب کے ماننے والوں نے اپنے اپنے دین کے مطابق دعا کی۔



قابل ذکر ہے کہ ماسکو کی مسجد پاکلان نیاگرا ان اہم ترین مساجد میں سے ایک ہے جس میں منعقد پروگراموں میں روس کےسیاسی عہدہ دار بھی آمد وشد رکھتے ہیں رمضان المبارک میں ’’ رمضان کیپمس‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے پروگراموں میں شیعہ سنی مسلمانوں کے علاوہ دوسرے ادیان و مذہب کے ماننے والے بھی شرکت کرتے ہیں اور اسلام سے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں۔




۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲