21 جولائی 2014 - 11:06
مصری تکفیری مفتی: غزہ کے لوگ شیعہ ہیں ان کی مدد نہ کرنا

مصر کے وہابی مفتی ’’طلعت زہران‘‘ نے اپنے تازہ ترین بیان میں مسلمانوں سے کہا ہے کہ غزہ کے لوگوں کی مدد نہ کریں کیوں کہ وہ شیعہ ہیں!

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تکفیری اور وہابی گروہ اسرائیل سے اپنے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے مضحکہ خیز باتوں کا سہارا لیتے ہیں اور ان حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جو روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔
مصر کے وہابی مفتی ’’طلعت زہران‘‘ نے اپنے تازہ ترین بیان میں مسلمانوں سے کہا ہے کہ غزہ کے لوگوں کی مدد نہ کریں کیوں کہ وہ شیعہ ہیں!
اس تکفیری مفتی نے یوٹیوپ پر اپنی ویڈیو جاری کر کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا غزہ پر صہیونی حملوں کے مقابلے میں غزہ کے لوگوں کی مدد کرنا چاہیے یا نہیں؟ کہا: پہلی بات یہ ہے کہ یہ موضوع خلیفہ مسلمین( داعش کے سرغنہ ابوبکر البغدادی) اور داعش کے پرچم سے مربوط ہے اگر خلیفہ مسلمین ضرورت سمجھیں گے تو داعش کے سپاہیوں کو غزہ بھیجیں گے۔
اس نے مزید کہا: دوسری بات یہ کہ غزہ کے لوگوں کا نہ کوئی امیر ہے اور نہ کوئی پرچم بلکہ وہ شیعہ ہیں اور ایران کے میزائیلوں سے اسرائیل کے مظلوم عوام کو قتل کر رہے ہیں اور اسرائیل بھی اپنا دفاع کرتے ہوئے مجبورا غزہ پر بمبارمنٹ کرتا ہے!
واضح رہے کہ یہ فکر صرف مصر کے ایک تکفیری مفتی کی نہیں بلکہ تمام عربی ممالک کی ہے جو غزہ پر کئے جانے والے انسانیت سوز مظالم کے باوجود ابھی تک خاموش ہیں اور کسی ایک عربی حکمران نے اسرائیل کے بھیانک جرائم کی ایک بار بھی مذمت نہیں کی۔ ایک طرف پورپ، افریقہ اور امریکہ کے کئی ممالک حتی نیویارک میں مسلسل اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں اور ان ملکوں کے عوام مسلسل صہیونی جارحیت کی مذمت کر رہے ہیں لیکن چند اسلامی ممالک کے علاوہ باقی تمام مسلمان جو باطنی طور پر یا اسرائیل کے ساتھ ہم دست ہیں یا پھر یہ ذہیت بنائے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں کہ چونکہ ایران فلسطین کی حمایت کرتا ہے لہذا ممکن ہے فلسطینی عوام شیعہ ہوں جبکہ نہ ہی فلسطینی شیعہ ہیں اور نہ ہی ایران شیعہ سمجھ کر ان کی حمایت کرتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف مظلوم کی حمایت کرنا ہے مظلوم چاہے شیعہ ہو یا سنی ہو یا کسی دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والا ہو اسلام اور اسلامی جمہوریہ ایران مظلوم کی حمایت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، ظالم سے نفرت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اس لیے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اس موقف کی بنیاد مولا امیر المومنین علی علیہ السلام کے اس فرمان پر قائم ہے’’ كُونَا لِلظَّالِمِ خَصْماً وَ لِلْمَظْلُومِ عَوْناً‘‘( ظالم کے دشمن رہنا اور مظلوم کے مددگار)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲