10 جولائی 2014 - 15:09
داعش اور ابوبکر البغدادی کے بارے میں مصری سلفی کا انکشاف

اس مصری سلفی نے مزید کہا: اس کے بعد امریکہ کی طرف سے البغدادی کو ۳۰ ملین ڈالر تک کی رقم دی گئی تاکہ وہ اپنا گروپ تیار کر کے عراق میں القاعدہ کے ٹھکانوں کو نابود کرنے میں امریکی فوج کی مدد کرے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خلیفہ مسلمین کے عنوان سے ابوبکر البغدادی کا نام شہرت پانے کے بعد ہر کوئی اس خبیث النفس اور قاتل مسلمین کے بارے میں خفیہ راز فاش کررہا ہے۔ جہاں ایڈورڈ اسنوڈن نے اسے امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دیا وہاں مصر کے ایک سلفی شیخ نے بھی اسے امریکہ کا خصوصی آلہ کار پہچنوایا۔
مصری کی الجھاد تنظیم کے بانی نبیل نعیم نے ٹی وی چینل ’’البلد‘‘ سے انٹرویو میں داعش اور اس کے لیڈر کے بارے میں اہم نکات کی طرف اشارہ کیا۔
نبیل نعیم نے کہا: ابوبکر البغدادی کا اصلی نام ’’ابراہیم عواد البکری‘‘ ہے جو کئی سالوں سے عراق میں امریکیوں کی جیل میں تھا کہ ۲۰۰۶ میں اچانک امریکی فوج نے اسے آزاد کر دیا۔
جیل سے آزاد ہونے کے بعد وہ ابومصعب زرقاوی سے مل گیا اور امریکیوں نے البغدادی کی رہائی کے ٹھیک ایک ماہ بعد زرقاوی کے ٹھکانے بر بمبارمنٹ کر دی اور اس طرح امریکی فوج القاعدہ کے لیڈر زرقاوی کو بلاد الرافدین میں نابود کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
اس مصری سلفی نے مزید کہا: اس کے بعد امریکہ کی طرف سے البغدادی کو ۳۰ ملین ڈالر تک کی رقم دی گئی تاکہ وہ اپنا گروپ تیار کر کے عراق میں القاعدہ کے ٹھکانوں کو نابود کرنے میں امریکی فوج کی مدد کرے۔ البغدادی کی مدد سے امریکی فوج عراق میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر بمبارمنٹ کرنے میں کامیاب ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ القاعدہ والے بغدادی کو مشکوک نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کے بعد بغدادی کے بنائے ہوئے ٹولے داعش اور القاعدہ نے آپس میں اکٹھا ہونے کی کوشش کی لیکن آخر کار ایک دوسرے کے دست و گریباں ہو گئے۔
بنیل نعیم نے مزید کہا: میں جیل میں تھا اور جب میں جیل سے آزاد ہوا تو میں ایک لقمہ روٹی کا بھی محتاج تھا لیکن البغدادی جیل سے آزاد ہونے کے بعد کروڑوں کا ملک ہو گیا اور وہ اپنا تمام پیسہ اپنے گروہ داعش پر خرچ کرتا تھا امریکہ کے علاوہ قطر سے اسے امداد ملنا شروع ہو گئی اور ترکی نے اسلحہ دینا شروع کر دیا۔ اس کام کا بنیادی مقصد بلاد الرافدین سے القاعدہ کو ختم کرنا تھا امریکہ نے جب دیکھا کہ وہ اب القاعدہ پر اپنا کنٹرول نہیں رکھ سکتا تو اس نے داعش کو پیدا کیا تاکہ اسے اپنے کنٹرول میں رکھ کر اس کے ذریعے اپنے مقاصد پورا کرے۔ داعش ہی کے ذریعے امریکہ بشار الاسد کے ساتھ لڑنے کے لیے کامیاب ہوا اور اب عراق میں امریکہ اس گروہ کے ذریعے اپنے منصوبے کو عمل جامہ پہنا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲