10 جولائی 2014 - 08:15
حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی سیرت طیبہ خواتین کیلئے نمونہ حیات

حضرت خدیجۃ الکبریٰ اولین خاتون اسلام ہیں جنہوں نے نہ صرف سب سے پہلے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی ص کی رسالت و نبوت کی تصدیق کی اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئیں بلکہ اپنا سب کچھ مال و متاع، دولت و ثروت اور جاہ و حشمت یعنی تن، من، دھن حضرت پیغمبر اسلام ﷺ ، تحریک اسلام اور دعوت اسلام کیلئے وقف اور صرف کردیا۔

ابنا: ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں میر واعظ مولوی محمد عمر فاروق نے محسنہ کائنات ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کے یوم وفات کے سلسلے میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ اولین خاتون اسلام ہیں جنہوں نے نہ صرف سب سے پہلے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی ص کی رسالت و نبوت کی تصدیق کی اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئیں بلکہ اپنا سب کچھ مال و متاع، دولت و ثروت اور جاہ و حشمت یعنی تن، من، دھن حضرت پیغمبر اسلام ﷺ ، تحریک اسلام اور دعوت اسلام کیلئے وقف اور صرف کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ص نے حضرت ام المومنین کی خدمات اور قربانیوں کا نہ صرف بارہا اپنی زبان مبارک سے بھر پور اعتراف فرمایا بلکہ انکی بے پناہ خوبیوں کے سبب انہیں دنیا کی بہترین اور مکمل ترین خاتون قرار دیا ۔انہوں نے کہاکہ اس عظیم خاتون اسلام کی عظمت اور بڑائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں سلام بھجوایا اور انکی وفات کے سال کو پیغمبر اسلام آنحضرت ص نے عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دیا۔ میرواعظ نے کہا کہ حضرت ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کی سیرت طیبہ اور حیات مقدسہ امت مسلمہ کی ماؤں، بیٹیوں اوربہنوں کیلئے نمونہ حیات ہے۔ اس لئے ملت کی خواتین کو چاہئے کہ وہ حضرت ام المومنین کی تعلیمات اور مقدس زندگی کو اپنے لئے نقش راہ بنا کر ایک دیندار اور برائیوں سے پاک سماج کی تعمیر میں اپنا کلیدی رول ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بہتر سماج کی تعمیر میں عورت کی خدمات کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

.......

/169