اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق میں ایک عیسائی آدمی نے اس وقت خود کشی کر لی جب اس کی بیوی اور بیٹی کے ساتھ داعش کے عناصر نے جہاد النکاح کر لیا۔
تکفیری گروہ داعش کے عراق میں غیر انسانی جرائم سے ہر انسان پریشان حال ہے تازہ ترین رپورٹ کے مطابق شہر موصل میں داعش کے بعض عناصر نے ایک عیسائی خاندان کی ایک عورت اور اس کی بیٹے کے ساتھ ناجائز سلوک کیا اور اسے جہاد النکاح کا نام دے دیا جو اس کے شوہر سے برداشت نہ ہو سکا اور اس نے اس منظر کو دیکھنے کے بعد خود کشی کر لی۔
اس تکفیری گروہ نے صوبہ نینوا کے شہر موصل پر مکمل کنٹرول حاصل کر رکھا ہے اور وہاں اپنی قانون نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی شہر میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والی چار خواتین کو حجاب نہ کرنے کے جرم میں ہلاک کر دیا ہے۔
ادھر شمال مشرقی علاقے بعوقہ میں دوجوانوں کو تکفیری گروہ داعش کی حمایت نہ کرنے کے جرم میں پھانسی دے دی گئی ہے۔
کنوز میڈیا کی رپورٹ کے مطابق تکفیری گروہ داعش نے جب سے سعدیہ کے علاقے پر کنٹرول حاصل کیا ہے تب سے اس علاقے کے رہنے والوں کر جزیہ (ٹیکس) دینے پر مجبور کیا جاتا ہے اور جزیہ نہ دینے کی صورت میں ہر گھر کے ایک فرد کو داعش کی رکنیت اختیار کرنا ہے اگر مرد ہے تو بندوق اٹھائے اور اگر عورت ہے تو جہاد النکاح کرے۔
اس رپورٹ کے مطابق لوگوں نے مجبور ہو کر اپنے گھروں کا سامان بیچنا اور داعش کو جزیہ ادا کرنا شروع کر دیا ہے چونکہ وہ کسی بھی صورت میں حاضر نہیں ہیں کہ داعش کی رکنیت اختیار کریں اور اپنی عورتوں کو داعش کے کتوں کے حوالے کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲