ابنا: عراق کی صورت حال ... جہاں دہشتگرد گروہ داعش کی بڑے پیمانے پر حمایت کی جا رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود عراق کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ فوج نے صوبۂ بابل میں دہشت گردوں کی چار گاڑیوں کو تباہ اور اس میں سوار تمام افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ صوبۂ بابل کے شمالی علاقوں میں دہشت گردوں کی سرگرمیاں نمایاں طور پر جاری ہیں تاہم عراقی فورسز ان علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کرنےکے لئے منظم کارروائیاں انجام دے رہی ہیں اور اب تک متعدد دہشت گرد ہلاک اورگرفتار کئے جاچکے ہيں جبکہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے شہر موصل میں حضرت ابو الفضل العباس علمدار (ع) کے روضے کی شبیہ کو شہید کر دیا ہے۔ تکفیری دہشتگردوں نے دھماکہ خيز مواد سے اس مقدس مقام کو منہدم کیا ہے۔ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے دس جون کو عراق کے صوبے نینوا پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد سے بہت سے مزارات، زیارتگاہوں اور مسلمانوں نیز عیسائيوں کے مقدس مقامات کو منہدم کر دیا۔ عراق کے مذہبی لیڈر مقتدی صدر نے داعش کے اس قسم کے غیر انسانی اقدامات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عراق کو داعش کا قبرستان بنا دیں گے۔ اس موضوع پر ہمارے ساتھی نے عالمی امور کے ہندوستانی تجزیہ نگارجاوید نقوی سے رابطہ قائم کر کے پہلے ان سے یہ پوچھا کہ امریکہ اور خلیج فارس کے ممالک دہشتگرد گروہ داعش کی حمایت کیوں کر رہے ہیں اور تکفیریوں نے عراق کا رخ کیوں کیا؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا۔
جس طرح ابھی ہندوستان کے عالمی امور کے تجزیہ نگار جاوید نقوی نے ریڈیو تہران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن عرب ممالک اپنے ملکوں میں عوامی انقلاب کے خوف سے تکفیری دہشتگردوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ جاوید نقوی نے کہا کہ خلیج فارس کے عرب ممالک اس خوف اور ڈر کی وجہ سے کہ ان کے ممالک میں جہاں شاہی حکومتیں ہیں ایران کے اسلامی انقلاب کی طرح انقلاب نہ آجائے، تکفیری دہشتگردوں کی حمایت کررہے ہیں تا کہ اپنے عوام کی توجہ اس جانب مبذول کرا سکیں۔
مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے عراق کے حالات پر کی جانے والی رپورٹنگ میں کبھی بھی یہ نہیں بتایا جائے گا کہ عراق کی موجودہ حالت کا ذمہ دارخود واشنگٹن ہے، کیونکہ دنیا کو بتایا ہی نہیں جائے گا کہ عراق سے دسمبر 2011ء میں امریکی افواج کے انخلاء کے باوجود اب بھی وہاں پر 200 سے زائد فوجی ٹروپس اور اعلیٰ سطح کے امریکی مشیر اور اہم ترین افراد موجود ہیں، آخر یہ افراد عراق میں کیا کر رہے ہیں؟ ان خبروں کو کبھی بھی کوئی بھی میڈیا اپنے ٹی وی چینل کی زینت نہیں بنائے گا۔ اس طرح کی بھی کوئی خبر شاید دنیا کو نہیں بتائی جائے گی کہ جو اعلٰی سطحی امریکی عہدیدار آج بھی عراق میں موجود ہیں وہ داعش جیسی خطرناک دہشت گرد تنظیموں کی نہ صرف تربیت میں مصروف ہیں بلکہ ان کو مالی وسائل اور اسلحہ کی فراہمی کے لئے بھی سب سے اہم ترین وسیلہ یہی لوگ ہیں۔
ہمیشہ کی طرح میڈیا کے مرکزی ذرائع دنیا کو کبھی یہ نہیں بتائیں گے کہ کیا ہو رہا ہے اور کس کی ایماء پر کیا جا رہا ہے؟ یہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی عالمی طاقتوں کے مفادات اور اپنے ذاتی فائدے کی خاطر حقیقت کو موڑ تروڑ کر پیش کریں گے اور یہ کام عراق پر داعش کے حملے کے پہلے روز سے ہی شروع کر دیا گیا ہے۔ عراق کو غیر مستحکم کرنا اور وہاں پر افراتفری پھیلانے کا منصوبہ امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ منصوبہ ہے جو صرف عراق تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ یہ منصوبہ بندی کوئی ہنگامی بنیادوں پر نہیں کی گئی بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی اس منصوبہ بندی کو کئی سالوں کا عرصہ بیت چکا ہے جس کے بعد اب ان کے یہ منصوبے عملی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں، پہلے فلسطین، پھر لبنان، افغانستان، مصر، شام اور اب عراق، اور پھر نہ جانے کون سا ملک لیکن تجزیہ نگار اگلا ہدف اردن کو قرار دے رہے ہیں۔
.......
/169