ابنا: صدر پوتن نے کہا ہے کہ سیاسی مفاہمت کی صورت نکلنی چاہیئے جس کے ذریعے مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والے افراد کے حقوق کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یوکرینی صدر کی جانب سے یوکرین کی افواج اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان لڑائی میں ایک ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے دو روز بعد روسی صدر نے اتوار کو یہ بات کہی۔
تاہم پوتن نے یہ بھی کہا کہ ایسے میں جب وہ پوروشنکو کے جنگ بندی کے مطالبے کا خیر مقدم کرتے ہیں، ’بدقسمتی سے‘ ہفتے کی رات گئے یوکرین کی طرف سے توپ خانے کی گولہ باری جاری رہی۔
یوکرین کے رہنما نے جمعے کو اپنے امن کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بحران میں شامل تمام فریقوں پر زور دیا تھا کہ اس منصوبے کی حمایت کی جائے اور مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات کا تصفیہ تلاش کیا جائے۔
تاہم، روس نواز علیحدگی پسندوں نے یکطرفہ جنگ بندی مسترد کردی ہے۔
.......
/169