اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عرب ملکوں کے بائیسویں اقتصادی اجلاس میں، جو کل لبنان کے دارالحکومت بیروت میں مختلف ملکوں کے چھے سو سے زائد حکام، سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کی شرکت سے تشکیل پایا، اس بات کا صراحت کے ساتھ اعلان کیا گيا کہ عرب ملکوں کی سب سے بڑی معاشی مشکل، بڑھتی ہوئی بدامنی ہے۔ اس قسم کا یہ اقتصادی اجلاس ہر سال کسی ایک عرب ملک کے دارالحکومت میں منعقد ہوتا ہے۔ کل کے بیروت اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لبنان کے وزیراعظم تمام سلام نے کہا کہ عرب ملکوں خاصطور سے لبنان میں بڑھتی ہوئی بدامنی، اقتصادی مسائل پیدا ہونے کی سب سے بڑی وجہ بنی رہی ہے۔ دنیائے عرب میں سنہ دو ہزار گیارہ سےحکومت مخالف مظاہروں اور احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے۔ عرب ملکوں کے عوام، اپنے ملکوں سے آمرانہ نظام اور خاندانی حکومتوں کا خاتمہ اور جمہوری حکومتوں کا قیام چاہتے ہیں جس پر ان ملکوں کی آمرانہ حکومتوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور سیکیورٹی فورسیز کو استعمال کرتے ہوئے عوام کے مظاہروں کو کچلنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جس سے نہ طرف ان ملکوں میں بیرونی مداخلت کی راہ ہموار ہوئی ہے بلکہ تیزی کے ساتھ بدامنی بھی پھیلی ہے جس کی بناء پر ان عرب ملکوں کی معیشت پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ بیشتر عرب ملکوں کو سنہ دو ہزار گيارہ میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے قبل بھی اقتصادی مسائل کا سامنا رہا ہے اور پھر ان ملکوں میں بڑھتی ہوئی بدامنی سے ان کے اقتصادی حالات اور زیادہ ابتر ہوئے ہیں۔ عرب ملکوں میں پیدا ہونے والی بدامنی اس بات کا باعث بنی ہے کہ ان ممالک کی اقتصادی تنصیبات تباہ اور یا پھر ان پر مسلح افراد کا قبضہ ہوا ہے اور اس کا ایک نمونہ لیبیاء ہے جہاں اس وقت بھی تیل کی مشرقی تنصیبات پر مسلح افراد کا قبضہ ہے جس کی بناء پر اس ملک کے عوام کو اقتصادی مسائل اور حکومت کو بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے اور تیل کی آمدنی میں کمی کا سامنا ہے۔ بڑھتی ہوئی بدامنی کے نتیجے میں عرب ملکوں کا سیاحت کا شعبہ بھی، بری طرح سے متاثر ہوا ہے اور اس اعتبار سے مصر، تیونس اور لبنان کو اور زیادہ نقصانات برداشت کرنا پڑے ہیں۔ لبنان کے وزیراعظم تمام سلام نے صراحت کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی سے لبنان کی سیاحت تباہ ہوچکی ہے جس کی بناء پر حکومت نے ملک میں امن کے قیام کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا ہے۔ عرب ملکوں میں جاری بدامنی کی بناء پر بیرونی سرمایہ کاری پر بھی بہت زیادہ اثر پڑا ہے اور بیرونی سرمایہ کاری کی شرح مستقل کم ہوتی رہی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ عرب ملکوں کی معیشت، بیرونی سرمایہ کاری سے مکمل طور پر وابستہ ہے۔ مجموعی طور پر عرب ملکوں میں بدامنی، ان ممالک میں حکومت کیلئے اقتصادی اور عوام کیلئے معاشی مسائل کا باعث بنی ہے جس کی بناء پر ان ملکوں میں غربت اور بے روزگاری میں بہت زیادہ تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲