اہل بیت(ع) نیوز ایجسنی۔ابنا۔ عراق میں دھشتگرد گروہ داعش نے سامرا پر حملہ اور اس کے بعد شہر موصل پر اپنا قبضہ جما کر بعض ایسے غیر انسانی اور تفرقہ آمیز اقدامات انجام دئے ہیں جن کے ذریعے وہ عراق میں مذہبی جنگ چھیڑنے اور فرقہ واریت کی آگ پھیلانے کی بے انتہا کوشش کر رہے ہیں۔
داعش نے اس گزشتہ ایک ہفتے کے دوران موصل میں شیعہ مقدسات کی توہین کرتے ہوئے ایک امام بارگاہ پر حملہ کیا اور امام بارگاہ میں موجود علم اور دیگر مذہبی چیزوں کو نذر آتش کر دیا اور داعش کے پرچم کوامام بارگاہ پر ٹانگ دیا۔
انہوں نے شیعہ سنی فساد کو مزید ہوا دینے کے لیے اپنی ویب سائٹ پر ان تصویروں کو شائع کیا ہے جن میں عراق کے شہید شیعہ فوجیوں کی تصویروں کو توڑ کر ان کی جگہ اپنی تصویروں کو لٹکایا گیا ہے۔
داعش نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایئر فورس کے ایک کالج پر حملہ کر کے ایک ہزار سات سو شیعہ اسٹوڈنٹس کو شہید کر دیا ہے جبکہ ۸۰۰ اہل سنت کے اسٹوڈنٹس کو ابوبکر البغدادی کے حکم سے معاف کر دیا گیا ہے۔
داعش کے ترجمان ابو محمد عدنانی کی عراق کے وزیر اعظم نوری مالکی کو مخاطب کر کے کی گئی گفتگو سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس تکفیری گروہ کا اصلی مقصد عراق میں شیعہ سنی فساد پھیلانا ہے۔ اس نے عراق کے وزیر اعظم جناب نوری مالکی کو انتہائی غیر مودبانہ لہجے میں کہا ہےکہ’’ ہمارا آپ کے ساتھ حساب و کتاب بغداد میں نہیں کربلا اور نجف ہو گا‘‘ ۔ اس نے اپنے اس بیان میں اپنی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ بغداد کے بجائے کربلا کی طرف آگے بڑھیں۔
تکفیری دھشتگردوں کا یہ گروہ سامرا، کاظمین، کربلا معلی اور نجف اشرف پر حملوں کے دھمکیاں دے کر عراق میں شیعہ سنی فرقہ واریت کا بازار گرم کرنا چاہتا ہے۔








۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲