10 جون 2014 - 13:57
ایران اور ترکی، اسٹریٹجیک تعلقات کی کونسل کا پہلا اجلاس

ایران اور ترکی کے اسٹریٹیجک تعلقات کی کونسل کے پہلےاجلاس کے بعد فریقین نے سولہ شقوں پر مشتمل مشترکہ بیان جاری کردیا ہے۔

ابنا: ایران اور ترکی کے اسٹریٹیجک تعلقات کی کونسل کے پہلےاجلاس کے بعد فریقین نے سولہ شقوں پر مشتمل مشترکہ بیان جاری کردیا ہے۔ یہ اجلاس اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور ترکی کے وزیر اعظم کی سربراہی میں ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہوا۔ صدر مملکت کی ویب سائٹ کی رپورٹ کےمطابق اس مشترکہ بیان میں جو آج جاری ہوا، ایران اور ترکی نے بین الاقوامی حقوق اور اچھے ہمسایہ روابط کی بنیاد پر، باہمی تعلقات کے فروغ کے سلسلے میں اپنے عزم کا اظہار کیا۔ ایران اور ترکی نے اس بیان میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ بینکنگ اور توانائی کے شعبوں ميں دوطرفہ تعلقات میں فروغ کی راہوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ہی سیاحت، ثقافت اور اسی طرح ایران کےایٹمی مسئلے سے متعلق مسائل پر باہمی تبادلۂ خیال کریں گے ۔ اس مشترکہ بیان میں ، بین الاقوامی معاہدے کی روسے ، پرامن ایٹمی توانائی سے استفادے کے لئے تمام ملکوں کے مسلمہ حق پر تاکید کے ساتھ ہی، عام تباہی پھیلانے والے اور ایٹمی ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطی کی حمایت کی گئی ہے اور دہشت گردی اور ہتھیاروں اور انسانوں کی اسمگلنگ سے مقابلے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس بیان میں ترکی نے تہران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں اور ایران مخالف پابندیاں ختم کئے جانے کی حمایت کااعلان کیا ۔ فریقین نے اس بیان میں اسی طرح اقوام متحدہ کے دائرے میں ہر قسم کے تشدد اور انتہا پسندی اور فرقہ واریت سے مقابلے کے لئے اپنی حمایت پر تاکید کی ۔ ایران اور ترکی نے اس بیان میں ملت فلسطین کے جائز حقوق کی حمایت پر تاکید کرتے ہوئے فلسطین میں قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل کو ضروری قرار دیا اور فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عالمی برادری اور اسلامی ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی امنگوں اور اہداف کی حمایت کریں۔

.......

/169