ابنا: علاء الدین بروجردی نے کل رات ایران ٹی وی چینل دو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہا کہ انتخابات کے بعد شام میں نئے سیاسی حالات پیدا ہوئے ہیں ۔ بروجردی نے کہا کہ اب تک بحث، بشار اسد کی قانونی حیثیت کے بارے میں تھی لیکن انتخابات کے بعد یہ مسئلہ ذیلی ہوگيا اور اب دہشت گرد بھی مذاکرات کے خواہاں ہیں ۔ایران کی مجلس شورائے اسلامی کے نمائندے نے کہا کہ اس کے بعد سے شام ميں مسلح گروہ، مقابلےکے بجائے بات چیت اورمذاکرات کی طرف مائل ہورہے ہیں اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا موقف بھی شام کے بارے ميں انتخابات کے بعد تبدیل ہوگیا ہے۔بروجردی نے اس امر پرتاکید کرتے ہوئے کہ انتخابات نے شام کی حکومت کو ایک بار پھر قانونی حیثیت عطا کی ہے کہا کہ امریکہ نے ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے عالمی سیاست کے میدان میں تین سال قبل یہ کہا تھا کہ شام کا نظام تبدیل ہونا چاہئے لیکن اب تک امریکہ کا یہ پروپگنڈہ علاقے میں تمام تر ہتھکنڈوں کو بروئے کار لائے جانے کے با وجود عملی نہیں ہوسکا ہے ۔ اس گفتگو میں شام کی وزارت اطلاعات کے اسٹریٹجک اسٹڈیز سنٹر کے سربراہ ملاذ مقداد نے بھی ایران کے ٹی وی چینل دو کے ساتھ انٹرویو میں کہاکہ بعض افراد یہ سمجھ کررہے تھے کہ شام کی جنگ میں عوام کو شکشت ہوگي لیکن شام کے عوام یہ جانتے تھے کہ یہ جنگ بشار اسد کی حکومت کو سرنگوں کرنے کے لئے ہے اور دہشت گردوں کے عوام پر حملے اور علماء اور اساتذہ کو نشانہ بنانے سے اس امرکی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس جنگ کے پیچھے وائٹ ہاؤس ہے ۔ واضح رہے کہ شام کے صدر بشار اسد ایک کروڑ تین لاکھ انیس ہزار سات سو تئیس ووٹ حاصل کر کے صدر منتخب ہوئے ہيں کہ جو کل ووٹوں کا اٹھاسی اعشاریہ چار فیصد ہے۔
.......
/169