1 جون 2014 - 09:49
سعودی عرب میں عوامی تحریک کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے

بي بي سي عربي ٹيلي ويژن چينل کے نمائندے نے اچانک اور غير معمولي اقدام کے تحت سعودي عرب کے مشرقي شہر قطيف ميں متعدد سياسي رہنماؤں اور کارکنوں سے جو حکومتي پاليسيوں کے خلاف ہيں بات چيت کي۔

ابنا: بي بي سي نے اس گفتگو کے حوالے سے بتايا ہے کہ سعودي عرب ميں حکومتي پاليسيوں پر احتجاج کرنے والوں کو تين سال کا عرصہ گذرجانے کے بعد بھي سعودي حکام کي جانب سے امتيازي سلوک اور متعصبانہ رويئے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور علاقے کے قدرتي ذخائر سے حاصل ہونےوالي آمدنيوں ميں سے انہيں کچھ بھي نہيں ملتا۔ بي بي سي نے اپني رپورٹ ميں کہا ہے کہ دوہزار گيارہ سے سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں شروع ہونے والے احتجاجات کے بعد ان علاقوں ميں گھٹن ، کشيدگي اور سيکورٹي اہلکاروں کي تعيناتي اور ان کے ذريعے خوف و ہراس پيدا کئے جانے کا ماحول حکمفرما ہوگيا ہے۔ بي بي سي کے نمائندے کا کہنا ہے کہ تين سال کا عرصہ گذرجانے کے بعد بھي قطيف کے سبھي علاقوں ميں جگہ جگہ سيکورٹي اہلکاروں نے چيک پوسٹيں قائم کررکھي ہيں۔ قطيف ميں ايک سياسي کارکن نے سيکورٹي وجوہات کي بنا پر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کي شرط پر بتايا کہ قطيف کا علاقہ تيل کي دولت سے مالا مال علاقہ ہے ليکن اس علاقے کي ترقي کے تعلق سے سعودي حکام نے اپني آنکھيں بند کررکھي ہيں۔ اس سعودي کارکن کا کہنا ہے کہ علاقے ميں پرانے اور کچے مکانات، غربت، بھوک اور تفريق کا بخوبي مشاہدہ کيا جاسکتا ہے ، اور سعودي حکام کے لئے يہ عام بات بن چکي ہے - ايک اور سياسي کارکن نے کہاکہ حکومتي پاليسيوں کے خلاف مشرقي علاقوں ميں مظاہرے جاري ہيں اور ان علاقوں کے باشندے اپني معاشي حالت کو بہتر اور اپني عزت و ناموس کي حفاظت کو يقيني بنائے جانے کا مطالبہ کررہے ہيں۔ مذکورہ سعودي سياسي کارکن کا کہنا ہے کہ مظاہرين کو جو ملک ميں اصلاحات کے نفاذ کا مطالبہ کررہے ہيں سعودي عرب کے سيکورٹي اہلکار تشدد کا نشانہ بناتے ہيں۔ بي بي سي عربي ٹيلي ويژن چينل کے نمائندے نے دسيوں سعودي سياسي کارکنوں سے اپني خفيہ ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ بي بي سي چينل پچھلے چودہ مہينے سے سعودي عرب کے مظاہرين کے مطالبات کے بارے ميں سعودي حکام سے جواب مانگ رہا ہے ليکن ابھي تک سعودي حکام کي جانب سے کوئي جواب نہيں ملا ہے۔ بي بي سي نے اعتراف کيا کہ جن سعودي باشندوں کو سيکورٹي اہلکاروں کي جانب سے تشدد کا نشانہ بنايا جاتا ہے ان کا جرم صرف يہ ہے کہ وہ آزادي بيان کا حق مانگ رہے ہيں۔ بي بي سي کے نمائندے کا کہنا ہے سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں پر امن مظاہروں ميں شريک جو لوگ سعودي فوج کي فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہوجاتے ہيں انہيں العواميہ ميں ايک مخصوص قبرستان ميں دفن کرديا جاتا ہے۔

.......

/169