29 مئی 2014 - 13:23
مسجد الاقصی کی جانب معراج پیغمبر(ص) کی مناسبت سے

پاک و منزہ ہے وہ ذات جو ایک ہی رات میں اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ کی طرف لے گئی جس کے اطراف کو ہم نے مبارک قرار دیا تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھلائیں بیشک وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔(قرآن)

ہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ البیان نیوز ایجنسی نے مسجد الاقصی کی طرف پیغمبر اکرم (ص) کی معراج کی مناسبت سے اس عظیم مقام کی تازہ ترین تصاویر شائع کی ہیں جو مسلمانوں کے لیے عبرت اور غیرت کا سامان ہیں۔
پیغمبر اکرم (ص) کے معجزات میں سے ایک معجزہ معراج ہے جس کی طرف قرآن کریم کے سورہ اسرا کی پہلی آیت اور سورہ نجم کی آٹھویں سے سترہویں آیات میں واضح طور پر اشارہ ہوا ہے۔ سورہ اسرا کی پہلی آیت میں بیان ہوا ہے:
پاک و منزہ ہے وہ ذات جو ایک ہی رات میں اپنے بندے کو مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ کی طرف لے گئی جس کے اطراف کو ہم نے مبارک قرار دیا تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھلائیں بیشک وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
پیغمبر اکرم(ص) کی معراج اسلام کی ضروریات میں سے ہے قرآن کی آیات اور متواتر احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ خداوند عالم اپنے حبیب کو ایک رات میں مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ اور وہاں سے سدرۃ المنتہیٰ تک لے گیا اور اپ کو اپنی خلقت کے عجائب کا مشاہدہ کرایا اور اپنے راز و رموز سے آگاہ کیا۔ اس سفر میں بنی اکرم (ص) نے بیت المعمور پر انبیاء سے ملاقات کی اس کے بعد جنت میں داخل ہوئے اور جنت کے مقامات کی زیارت کی اور اس کے بعد ان لوگوں کو بھی دیکھا جو عذاب الہی میں گرفتار تھے۔
البتہ جیسا کہ آیات و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ(ص) کی معراج دو مرحلوں میں انجام پائی پہلے مرحلے میں مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ تک ہوئی پھر مسجد الاقصیٰ سے ساتویں آسمان کی طرف یہاں تک کہ آپ اس معراج میں پرورگار عالم کے اتنا قریب چلے گئے کہ قرآن کی تعبیر کے مطابق قاب قوسین او ادنی یعنی دو کمان یا اس سے بھی کم کا فاصل رہ گیا یقینا یہ مادی فاصلہ نہیں ہے ورنہ شرک لازم آئے گا بلکہ یہ معنوی فاصلے اور میدان معرفت کی بات ہے لیکن اس معراج کا سفر جو آپ(ص) نے طے کیا وہ صرف معنوی سفر نہیں بلکہ جسمانی سفر بھی تھا تمام شیعہ علماء اور بعض سنی علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول اسلام کی معراج جسمانی معراج تھی اور حالت بیداری میں تھی جس پر متعدد روایات دلالت کرتی ہیں البتہ اگر غور کیا جائے تو خود قرآن کریم کی اس آیت میں بھی یہ بات واضح طور پر بیان ہوئی ہے چونکہ سورہ اسرا کی پہلی آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ خدا اپنے ’’بندے‘‘ کو لے کر گیا اور عربی زبان میں بندہ جسم و روح دونوں سے بنے ہوئے پتلے کو کہا جاتا ہے نہ کہ تنہا روح یا تنہا جسم کو۔ لہذا اس تعبیر سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کی معراج، جسمانی معراج تھی۔

بقلم: افتخار جعفری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲