ابنا: صدر جناب حسن روحانی نے آج شانگھائي میں دانشوروں اور اہل نظر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے تحقیقاتی مراکز کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے مفادات کی اساس پر طویل مدت تعلقات کا لائحہ عمل تدوین کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور چین کے تعلقات اسی وقت مستحکم ہوسکتے ہیں جب اقتصادی مسائل کےساتھ ساتھ علمی اور تحقیقاتی امور کا تبادلہ بھی ہو۔ انہوں نے اس سلسلے میں شعبہ سیاحت کی اہمیت پر بھی تاکید کی۔ انہوں نے عالم انسانیت کو درپیش چیلنجوں منجملہ تشدد اور انتھا پسندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسائل ممکن ہے کہ انسانیت کو طولانی مدت تک جنگ و بحران میں مبتلا رکھیں جس کا ایک نمونہ شام، عراق، اردن ، یمن اور بحرین یہانتک کہ مصر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تشدد، انتھا پسندی اور دہشتگردی کا مقابلہ کرنا کسی ایک قوم یا براعظم کا کام نہیں ہے بلکہ تمام انسانوں کو متحد ہوکر ان مشکلات کا سامنا کرنا چاہیئے۔
صدر جناب حسن روحانی نے کہا کہ اسی وجہ سے دنیا کو تشدد سے عاری کرنے کی ایران کی تجویز کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طورپر منظور کیا ہے اور شانگھائی کے سیکا سربراہی اجلاس میں بھی ان تجویزوں پر تاکید کی جائے گي تا کہ تمام رکن ممالک ان تجویزوں پر متحد ہوکر عمل درآمد کرسکیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ مشرق وسطی میں بحران پھیلانے کی ذمہ دار صیہونی حکومت ہے کیونکہ وہ تمام عالمی قراردادوں کو نظر انداز کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی میں قیام امن کے لئے تمام فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور فلسطینی قوم کی شرکت سے ریفرینڈم کرانے کےعلاوہ کوئي اور چارہ نہيں ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف بالخصوص اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد امریکہ کے دشمنانہ اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی حکومت نیک نیتی کا مظاہرہ کرے تو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگي میں کمی آسکتی ہے۔
.......
/169