18 مئی 2014 - 08:29
ترکی میں مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں

ترکی کے علاقے سوما میں کان کے حادثے میں 300 افراد کی ہلاکت کےخلاف ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے مظاہرے کئے۔

ابنا: رپورٹ کے مطابق، مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئےپولیس نے آنسو گیس کے گولے فائر کئے اور واٹر کینن کا کا استعمال کیا۔ مظاہرین حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے ۔ احتجاجی مظاہرے کان کے آپریٹر کے اس بیان کے بعد شروع ہوئے جس میں کہا گیا کہ حادثے میں ان کی کوئی کوتاہی نہیں تھی۔

سوما ہولڈنگ نامی کمپنی کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں حادثے کے بعد کمپنی کے ردعمل کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کمپنی کی واحد ترجیح لوگوں کی جانیں بچانا تھی۔ انہوں نے کہا کہ حادثہ کان میں حرارت کے اضافے کی وجہ سے ہوا، جس کی ابھی تک کوئی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔
مزدور یونینوں کے ارکان کا کہنا ہے کہ کان کنی کے شعبے کی حالیہ نجکاری نے حالاتِ کار کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ ترکی میں اس حادثے پر تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے اور ملک کے صدر عبداللہ گل نے بھی سوما میں واقع جائے حادثہ کا دورہ کیا ہے جہاں انہیں مشتعل مظاہرین کی نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا۔
ترکی میں گزشتہ تین دن سے کان کے حادثے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ کان کے حادثے میں 300 ہلاکتوں کے علاوہ 122 افراد زخمی ہوئے ہیں اور اب بھی 18 کان کن لاپتہ ہیں۔

.......

/169