ابنا: اسلامي جمہوريہ ايران کي وزارت خارجہ کے سيکورٹي اور بين الاقوامي سياسي امور کے ڈائريکٹرجنرل حميد بعيدي نژاد نے نيويارک ميں اين پي ٹي معاہدے پر نظرثاني کي کانفرنس کي ابتدائي کميٹي کي تيسري نشست ميں تقريرکے دوران کہا کہ يہ بہت ہي تشويش کي بات ہے کہ اين پي ٹي کے معرض وجود ميں آنے کے بعد پينتاليس سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھي ايٹمي ملکوں نے نہ صرف يہ کہ ايٹمي ہتھياروں کو کم کرنے اور انہيں تلف کرنے کے تعلق سے اپنے وعدوں پر نہ صرف عمل نہيں کيا ہے بلکہ اس کے برخلاف ان ملکوں نے ايٹمي ہتھياروں ميں اضافہ کيا اور ان کي جديد کاري کي سمت قدم اٹھايا ہے۔ انہوں نے کہا يہ ممالک ايک دوسرے کے مقابلے ميں ايٹمي ميدانوں ميں سبقت لے جانے ميں لگے ہوئے ہيں اور ايٹمي تجربات ميں مصروف رہنے کے ساتھ ساتھ اپني دفاعي حکمت عملي ميں ايٹمي ہتھياروں کا رول بڑھاتے جارہے ہيں -ايران کي وزارت خارجہ کے ڈائريکٹر جنرل نے اس بات پر زور ديا کہ ايٹمي ملکوں کو اپنے ايٹمي ہتھياروں کي جديد کاري اور انہيں پيشرفتہ بنانے کے بجائے ايٹمي ترک اسلحہ کے مذاکرات کي حمايت کرنا اورايٹمي ہتھياروں کو تلف کرنے کي کاروائي شروع کرنے کي راہ ميں عملي قدم اٹھانا چاہئے انہوں نے مزید کہا کہ ايٹمي ملکوں کو چاہئے کہ وہ اين پي ٹي کے تعلق سے کئے گئے اپنے وعدوں کو عملي جامہ پہنائيں۔ اين پي ٹي کے سبھي رکن ملکوں کي موافقت سے سن دوہزار بارہ ميں مشرق وسطي کو ايٹمي ہتھياروں سے پاک علاقہ قرارديئے جانے کے لئے ايٹمي ترک اسلحہ کانفرنس کا پروگرام طے ہوگيا تھا ليکن امريکا اور صيہوني حکومت نےاس کانفرنس کي مخالفت کي اور اس ميں رکاوٹيں کھڑي کرديں جس کا نعرہ تھا کہ مشرق وسطي کو ايٹمي ہتھياروں سے پاک علاقہ قرارديا جائے۔ واضح رہے کہ اين پي ٹي پر نظرثاني کانفرنس ہر پانچ سال ميں ايک بار ہوتي ہے اور اس سلسلے کي آخري کانفرنس سن دوہزار دس ميں نيويارک ميں ہوئي تھي۔ اين پي ٹي پر نظرثاني کي کانفرنس کي ابتدائي کميٹي کي دوسري نشست جنيوا ميں ہوئي تھي جبکہ پہلي نشست ويانا ميں منعقد ہوئي تھي -
.......
/169