28 اپریل 2014 - 17:02
شرک کی آڑ میں توحید کے آثارکومٹانے پرآیت اللہ سبحانی کا انتباہ

آیت اللہ جعفرسبحانی نے کہا ہے کہ مکہ کے وہابی حرم کی توسیع کا بہانہ بنا کران تمام اسلامی آثارقدیمہ کومنہدم کررہے ہیں کہ جواللہ کی نشانیوں کا ایک حصہ ہیں اورمستقبل میں یہ چیز اسلام کونقصان پہنچائے گی۔

ابنا: مرجع تقلید آیت اللہ جعفرسبحانی نے اپنے درس خارج میں"مقدس مقامات کی اہانت" کے عنوان سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس مقامات کی اہانت ایسے مسائل میں سے ہےکہ اگریہ ثابت ہوجائے تویہ ایک کلی قانون بن سکتا ہے کہ جس سے دیگراحکام کا استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ دین اسلام میں کعبہ،مسجدالحرام، حرم،قرآن کریم اورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورائمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث پرمشتمل کتابیں قابل احترام اورمقدس ہیں۔لہذا بحث اس میں ہے کہ اگران مقدسات کی اہانت کی جائے تواس کا کیا حکم ہے؟

انہوں نے مزید کہا ہے کہ اس حکم کےاستفادہ کے لیے قرآن کریم میں چارآیات موجود ہیں کہ جو اس مسئلہ کے حکم کی دلیل بن سکتی ہیں۔پہلی آیت سورہ حج کی آیت نمبر۳۲ہے کہ جس میں فرماتا ہے: وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ،جوبھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا تویہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ بنے گی،کیونکہ اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرنا،دلوں کے متقی ہونے کی علامت ہے۔دوسری آیت سورہ مائدہ کی آیت نمبردو ہے کہ جس میں فرماتا ہے: لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ خدا کی نشانیوں کی حرمت کوضائع نہ کرنا۔ان آیات میں سب سے پہلے دو مسئلوں کی وضاحت ضروری ہے ایک"شعائراللہ"(اللہ کی نشانیاں) اوردوسرایہ کہ تعظیم کا کیا مطلب ہے؟

اس مرجع تقلید نے"شعائر" کے معنی ٰ کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ"شعائر" شعیرہ کی جمع ہے اوراس کا معنی علامت ہے اورشعائر کا معنی علامات اورنشانیاں ہیں اوراس میں تین احتمال پائے جاتے ہیں :پہلا احتمال یہ ہے کہ ان علامات کا معنی خداوند متعال ہے کہ البتہ اس احتمال کوکسی نے قبول نہیں کیا ہے کیونکہ اگریہ معنی مراد لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمام موجودات خداوند کی نشانیاں ہیں اورسب کا احترام کرنا چاہیے کہ جوبہت بعید ہے۔

دوسراحتمال یہ ہے کہ شعائرکو خداوند کی عبادت کی نشانیوں کے معنی میں لیں ۔معلوم ہوتا ہے کہ دوسرا معنی،تیسرے معنی میں داخل ہے یعنی عبادت اوراطاعت کے مراکز جیسے مسجدالحرام ،کعبہ اورمساجد وغیرہ۔تیسرا احتمال یہ ہے کہ "شعائر کا معنی دین خدا کی نشانیاں ہیں یعنی ہروہ چیز کہ جودین خدا اس سے ارتباط رکھتی ہو وہ "شعائر" میں سے شمارہوتی ہے جیسے مساجد،کعبہ، مسجدالحرام، اللہ کی کتاب،حدیث کی کتب اوریہاں تک کہ علماء کی قبریں بھی اس معنی کے اعتبارسے کیونکہ ایک یہ بھی قسم کا دین سے ارتباط رکھتی ہیں لہذا وہ بھی شعائر میں سے شمارہوتی ہیں۔میری نظرکے مطابق اس معنی اوراستدلال کی بنا پروہابیت کوخاموش کروایا جاسکتا ہے کیونکہ وہ تمام اسلامی آثارقدیمہ کوختم کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔

ا نہوں نے مزید کہا ہے کہ ساٹھ سال قبل جب میں مکہ مکرمہ میں گیا تواس وقت علماء اورانبیاء کے بہت سے آثاراوران کی قبریں موجود تھیں اورعبدالعزیزنے انہیں ابھی تک تباہ نہیں کیا تھا لیکن اب اگرکوئی مکہ جائے توایسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی یورپی شہرمیں داخل ہوگیا ہے کیونکہ تمام اسلامی نشانیوں اورآثارکی جگہ پریورپی علامات اورآثاردکھائی دیتے ہیں ۔انہوں نے حرم کی توسیع کا بہانہ بنا کر ان مقدس مقامات کوگرادیا ہواہے اوراگرہم اس آیت کی بنا پر منہدم ہونے والے آثارقدیمہ کےایک قسم کے دین کے ساتھ ارتباط کوثابت کردیں تویہ چیزان کی شکست کا سبب بنے گی۔حیرانگی کی بات یہ ہے کہ وہ توحید کے نام پرتوحید کے تمام آثارکومٹارہے ہیں اوروہ نبی کہ جوتوحید کا علمبردارہے ان کے آثارکوشرک کا عنوان قراردے کرمٹارہے ہیں۔

آیت اللہ سبحانی نے اس بات پرزوردے کرکہا ہے کہ وہابیت،شرک کی آڑ میں توحید کے تمام آثاراورنشانیوں کو مٹارہی ہے اوراگران کے اختیارمیں ہوتویہ جوچند چیزیں باقی بچ گئی ہیں انہیں بھی زمین بوس کردیں تاکہ اسلام کانام ونشان بھی باقی نہ رہے اوراگرکوئی مستقبل میں اسلام کے بارے گفتگو کرناچاہے توکوئی یقین نہ کرے اوراسے حقیقت خیال نہ کرے جیسے لیلی اورمجنون کا افسانہ کہ جسے بعض حقیقت نہیں جانتے ہیں۔

اگراسلام کا کوئی اثرباقی نہ رہے تویہ بھی لیلی اورمجنون کی طرح ہوجائے گا۔اگرنبی مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورصحابہ کی قبریں نہ ہوں،اگرجنگ احد اورخندق وغیرہ کے آثارکا خاتمہ کردیا جائے توبعد میں آنے والے لوگ اسلام کوافسانہ قراردیں گے اوراس کی حقیقت میں شک کریں گے۔ جبکہ عقلمند افراد اپنے آثارقدیمہ کی حفاظت کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کی حقیقت کی نشانی ہے اوراگریہ ختم ہوجائیں توان کی حقیقت بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔لہذا گروہابیوں نے بھی اسی طرح یہ کام جاری رکھا تو اسلام کا کوئی اثرباقی نہیں بچے گا اوراسلام کی تمام حقیقتیں اورجڑیں ختم ہوجائیں گی اوربعد میں آنے والے لوگوں کوکیونکہ تاریخ میں اسلام کا کوئی اثرنہیں ملے گا اس لیے وہ آسانی سے اسے مسترد کردیں گے اورقبول نہیں کریں گے۔

بنابریں اگر"شعائر" کامعنی دین خدا کی نشانیاں کیا جائے تویہ تمام آثاربھی شعائرمیں سے شمارہوں گے کہ جن کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے"تعظیم " کے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ احترام کے لیے کوئی خاص اورمشخص معنی بیان نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہرچیزکا احترام اس کےاپنے حساب سے ہے۔بالفاظ دیگر ہرچیز اپنا ایک خاص احترام رکھتی ہے کہ جس کی بنا پرعمل کرنا چاہیے ۔مثال کے طورپرقرآن کریم کا احترام یہ ہے کہ اسے جلد کیا جائے،اس کے آگے پاوں دراز نہیں کرنے چاہییں اورقرآن کا احترام اس طرح نہیں ہے کہ جیسا کے آج کل ہماری مجالس میں ہوتا ہے کہ ایک شخص قرآن کی تلاوت کررہا ہوتا ہے اوردوسرے لوگ اس کی تلاوت سننے کی بجائے اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوتے ہیں۔ان مجالس میں ایک شخص قرآن کی تلاوت کرے اورباقی غورسے سنیں اورہرپانچ منٹ کے بعد ایک مرتبہ فاتحہ پڑھیں اوراگرکوئی جانا چاہتا ہے تواس دوران مجلس سے اٹھ کرچلا جائے۔

حوزہ علمیہ قم کے مایہ نازاستاد نے آخرمیں کہا ہے کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ شام،اردن اورمصرجیسے بعض ممالک کے مسلمانوں نے انبیاء کے تمام آثاراوران کی قبروں کی حفاظت کررکھی ہے۔تمام مسلمان، انبیاء اوراولیائے الہی کی قبروں کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ ناسمجھ اورجاہل وہابی ہیں کہ جوان نشانیوں کو شرک جانتےہیں لیکن جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ یہ کیسا شرک ہے؟کیا ذات میں شرک ہے؟ صفات میں شرک ہے؟ افعال میں شرک ہے؟عبادت میں شرک ہے؟ تواس وقت ان کے پا س کوئی جواب نہیں ہوتا اوروہ خاموش ہوجاتے ہیں۔بہرحال یہ آیات اس مطلب پربہترین دلیل ہیں کہ یہ دین کا ایک حصہ ہیں اوران کی حفاظت کی جانی چاہیے۔

.......

/169