28 اپریل 2014 - 15:33
وسطي جمہوريہ افريقا سے مسلمانوں کا فرار

وسطي جمہوريہ افريقا سے مسلمانوں کے فرار ميں تيزي آگئي ہے -

 

ابنا: وسطي جمہوريہ افريقا کے دارالحکومت بانگي  سے ملنے والي تازہ رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند گروہ اينٹي بلاکا کے  حملوں ميں تيزي آگئي ہے -

اس رپورٹ کے مطابق ايک ہزار تين سو افراد  پر مشتمل مسلمان مہاجرين کا ايک اور قافلہ امن محافظ فوجيوں کي حفاظت ميں بانگي سے روانہ ہوا ہے -

رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ مسلمان مہاجرين کے اس کارواں ميں اکثريت عورتوں اور بچوں کي ہے اور وہ ملک کے شمالي علاقوں کي جانب روانہ ہوئے ہيں اور اگر اينٹي بلاکا کے حملوں سے بچ گئے تو چاڈ يا کيمرون جائيں گے -

دسمبر دو ہزار تيرہ سے وسطي جمہوريہ افريقا ميں مسلمانوں پر حملوں ميں شدت آئي ہے جس کے بعد وہ گھيٹو کے نام سے موسوم اقليتوں کے علاقے ميں محصور ہوگئے تھے  اور حاليہ چند ہفتے ميں دسيوں ہزار مسلمان اپني جان بچا کے شمال کي جانب مہاجرت پر مجبور ہوئے ہيں - مسلمانوں کي مہاجرت  کے بعد اينٹي بلاکا کے نام سے مشہور عيسائي انتہا پسندوں نے ان کے گھروں اور دکانوں کو لوٹ ليا اور مساجد کو نذرآتش کرديا -

وسطي جمہوريہ افريقا کے قومي آشتي کے وزير انتوانت مونتي نے خبردار کيا ہے کہ مسلمانوں پر اينٹي بلاکا کے وحشيانہ حملوں سے جنگ کے خاتمے اور قومي آشتي کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہيں -

دوسري جانب انساني حقوق کي بين الاقوامي تنظيموں کا کہنا ہے کہ  امن محافظ فوجي اپنے فرائض پر عمل نہيں کررہے ہيں بلکہ بعض اوقات  فرقہ وارانہ نيز نسلي تصفيے ميں انتہا پسند تنظيموں کا ساتھ ديتے ہيں -

وسطي جمہوريہ افريقا ميں مرکزي افريقا کے ملکوں کے تقريبا سات ہزار امن محافظ فوجي تعينات ہيں جنہيں عام شہريوں کي حفاظت کي ذمہ داري سونپي گئي ہے، اس کے باوجود انتہا پسند عيسائيوں کي تنظيم  اينٹي بلاکا کے حملوں ميں بڑي تعداد ميں مسلمان مارے گئے اور جو بچ گئے ہيں وہ اپني جان بچانے کے لئے مہاجرت پر مجبور ہيں -

ايک اور رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ وسطي جمہوريہ افريقا کے جنوبي شہر بوڈا ميں تقريبا دس ہزار مسلمان اينٹي بلاکا کے محاصرے ميں ہيں -

وسطي جمہوريہ افريقا ميں اس سے پہلے  اس ملک ميں  متعدد فوجي بغاوتيں ہوچکي ہيں ليکن انتہا بحراني حالات ميں بھي مسلمانوں اور عيسائيوں ميں کبھي تصادم نہيں ہوا- اس ملک ميں مسلمانوں پر حملے ايسي حالت ميں شروع ہوئے ہيں کہ قيام امن کے بہانے فرانس نے بھي اپنے فوجي بھيج رکھے ہيں –

.......

/169