18 اپریل 2014 - 20:47

سیدعلی گیلانی نے انتخابات مخالف احتجاجی کیلنڈر جاری کرتے ہوئے اہل وادی سے 24 و 30 اپریل اور7 مئی کوسول کرفیو رکھنے کی اپیل کی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان میں بی جے پی کے وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد امیدوار نریندر مودی کی طرف سے مسئلہ کشمیرکے بارے یقین دہانی کرانے کاانکشاف کرتے ہوئے بزرگ مزاحمتی لیڈر سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ 2 پنڈت قاصدوں نے دلی میں بھاجپا لیڈر کاپیغام اور پیشکش لیکر ملاقات کی لیکن حریت گیلانی گروپ کے چیئرمین نے مودی کے قاصدوں کی پیشکش کو موقع پر یکسر مسترد کرنے کادعویٰ کرتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیاکہ مودی کے ایلچیوں نے دہلی میں کچھ دیگر مزاحمتی لیڈران کیساتھ بھی ملاقات کی لیکن ان کے بقول ان لیڈران نے یہ بات عوام سے چھپائی۔
سیدعلی گیلانی نے انتخابات مخالف احتجاجی کیلنڈر جاری کرتے ہوئے اہل وادی سے 24 و 30 اپریل اور7 مئی کوسول کرفیو رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے 23 اپریل، 29 اپریل اور 6 مئی کوجنوبی، وسطی اور شمالی کشمیر میں نماز مغرب کے بعد شبانہ احتجاج اور مظاہرے کرنے پر بھی زوردیا۔ مزاحمتی لیڈران اور کارکنان کی گرفتاری اور خانہ نظربندی پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حریت(گ)چیئرمین نے ایسی کارروائیوں کیخلاف 21 اپریل کو کشمیر میں عام ہڑتال کی کال بھی دی۔ سید علی گیلانی نے الیکشن بائیکاٹ کی کال دہراتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی حکمران جموں کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی نگرانی رائے شماری کرانے کا بندوبست کریں، تو حریت کانفرنس اس عمل میں بھرپور شرکت کرے گی۔
تقریباً ایک ماہ تک نئی دلّی میں علاج کی غرض سے قیام کرنے کے بعد حریت کانفرنس (گ)  کے چیرمین سید علی گیلانی نے سرینگر واپسی کے  3روز بعد اپنی رہائش گاہ واقع حیدر پورہ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ دلّی میں قیام کے دوران نریندر مودی کے  2پنڈت نمائندے ان سے ملنے آئے تھے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ 22 مارچ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی کا پیغام لیکر ان کے 2 نمائندے نئی دلّی میں اُن (گیلانی) سے ملے ۔حریت (گ) چیرمین کے بقول مودی کے نمائندوں نے مجھ سے کشمیر کے بارے میں کوئی وعدہ چاہا اور بدلے میں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ اگر مودی وزیر اعظم بن گئے تو وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے اقدامات کریں گے۔ بزرگ مزاحمتی لیڈر نے کہا کہ انہوں نے مودی کے نمائندوں کی پیشکش کو موقع پر ہی مسترد کرتے ہوئے ان پر واضح کیا کہ نریندر مودی مسلمانوں کا قاتل ہے ۔حریت کانفرنس(گ) کے چیرمین سید علی گیلانی نے مودی کے ایلچیوں کی آمد کی وضاحت کرتے ہوئے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ ہم سے یہ چاہتے تھے کہ ہم کشمیر میں ان کی حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے اپنے ایلچیوں سے کہا تھا کہ اگر سید علی گیلانی اس بات پر راضی ہوتے ہیں توانہیں یہ پیغام پہنچا دیں کہ اگر میں وزیر اعظم ہند بن گیا تو مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پیش رفت کروں گا۔ 2 پنڈت قاصدوں کے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے حریت(گ) چیرمین نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ اگر میں (گیلانی) کوئی وعدہ کروں تووہ مودی سے اس بات کی یقین دہانی لیکر آئیں گے کہ 16 مئی کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد وزیر اعظم بننے کی صورت میں وہ (مودی) مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے عملی اقدامات  کریں گے۔ سید علی گیلانی کے بقول انہوں نے مودی کے نمائندوں پر واضح کیا کہ مذکورہ شخص آر ایس ایس کی پیداوار ہے اور اسی کے نظریات کا پابند ہے ، وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا لیڈر بھی ہے تو ایسے میں وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کیسے حقیقت پسندانہ اقدامات کر سکتا ہے۔ حریت (گ) چیرمین کے مطابق انہوں نے مودی کے نمائندوں پر یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایک ایسے شخص پر کیسے بھروسہ کریں ،جن کے دور میں گجرات میں 3 ہزار مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا، خواتین کے شکم چاک کئے گئے اور وہاں سے نکلنے والے بچوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہیں آگ میں جھونک دیا گیا۔ سید علی گیلانی نے انکشاف کیا کہ مودی کے نمائندے نئی دلّی میں دیگر کئی کشمیری مزاحمتی لیڈران سے بھی ملے اور غالباً انہیں بھی اسی طرح کی یقین دہانی کرائی گئی۔ انہوں نے کسی مزاحمتی لیڈر کا نام لئے بغیر کہا کہ شاید اسی وجہ سے کچھ لوگ مودی کے بارے میں بیانات جاری کر رہے ہیں۔ سید علی گیلانی نے تاہم اس بات پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ جو لوگ مودی کے نمائندوں سے ملے انہوں نے یہ بات عوام سے چھپائی۔
اس موقع پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حریت کانفرنس(گ) کے چیرمین نے کانگریس کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اصل مجرم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سبھی ہند نوازجماعتیں بشمول نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں نیشنل کانفرنس نے بھارت کے خاکوں میں ہمیشہ رنگ بھرا ، وہیں پی ڈی پی تو اصل میں کانگریس سے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ مانگنے والی سبھی جماعتیں اور ان سے وابستہ لیڈران نیز امیدوار کشمیریوں کی رواں جدوجہد کے حوالے سے غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
سیدعلی گیلانی نے کہا کہ ساڑھے 7 لاکھ افواج اور دیگر نیم فوجی فورسز اور پولیس کی موجودگی میں، جموں کشمیر میں منعقد کئے جانے والے انتخابی ڈرامے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے موقف کااعادہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ محض ایک فوجی آپریشن ہے، جس میں فوج اور خفیہ ایجنسیاں کہیں براہِ راست طور اور کہیں بالواسطہ طور مداخلت کرتی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فوج کہیں رقومات فراہم کر کے اور کہیں ڈرا دھمکا کر الیکشن ڈرامے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جنوبی کشمیر میں فوج کو آج ہی سے متحرک کیا گیا ہے اور مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بلہ پورہ شوپیان، قوئل ایئرپورٹ اور پنجگام پلوامہ میں تعینات فوجی کیمپوں کے اہلکاروں نے بستیوں میں گشت لگانا شروع کیا ہے اور اس دوران نہ صرف آزادی پسندوں کی طرف سے لگائے گئے پوسٹروں کو ہٹایا جاتا ہے، بلکہ لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی تاکید بھی کی جاتی ہے۔ سیدعلی گیلانی نے کہا کہ پولیس سربراہ نے 15 دن قبل اگرچہ کہا تھا کہ پُرامن طور الیکشن بائیکاٹ مہم چلانے والے آزادی پسندوں کو گرفتار نہیں کیا جائے گا، البتہ یہ سب سراب ثابت ہوا ہے اور پولیس نے ان کے خلاف باضابطہ کریک ڈاؤن شروع کیا ہوا ہے‘۔انہوں نے کہاکہ میں علاج کے بعد ایک مہینے کے وقفے سے واپس آیا، تو مجھے دوبارہ گھر میں نظربند کیا گیا، جس کا کوئی آئینی، قانونی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔ سید علی گیلانی نے نامہ نگاروں کے سامنے اس بات کااظہار کیا کہ میں نے تمام ضلعی صدر مقامات پر عوامی جلسے منعقد کرنے کا پروگرام بنایا تھا، البتہ حکومت نظریات کی جنگ پر یقین ہی نہیں رکھتی ہے اور وہ طاقت کے بل بوتے پر جموں کشمیر کی موثر آواز کو دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
حریت(گ) چیئرمین نے کہا کہ دوسرے آزادی پسندوں کو بھی پُرامن الیکشن بائیکاٹ مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور انہیں جیلوں اور تھانوں میں نظربند کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ ابھی تک کی اطلاعات ہیں کہ کئی اہم لیڈروں کے علاوہ 200 کے قریب آزادی پسند کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سیدعلی گیلانی کے بقول اس صورتحال میں الیکشن ڈرامے کی کوئی اہمیت اور حیثیت باقی نہیں رہ گئی ہے اور یہ ایک یکطرفہ کھیل بن گیا ہے، جس میں آزادی پسندوں کو اپنا موقف لوگوں تک پہنچانے کا موقع فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اصولی طور پر جمہوریت کے مخالف نہیں ہیں، البتہ جو ووٹ آج بجلی، پانی اور سڑک کے نام پر حاصل کیا جاتا ہے، ہندوستان کل اس کو اپنے جبری قبضے کی دلیل کے طور پر استعمال کرتا ہے اور وہ بین الاقوامی فورموں میں اس کونام نہاد الحاق کی لوگوں کی طرف سے توثیق کے طور پیش کرتا ہے۔
سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں اپنے وعدوں کو پورا کر کے جموں کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرانے کا بندوبست کریں، تو حریت کانفرنس اس عمل میں بھرپور شرکت کرے گی اور ثابت کرے گی کہ وہ عوام کی غالب اکثریت کی خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی کرتی ہے۔ الیکشن بائیکاٹ کال کودہراتے ہوئے حریت کانفرنس(گ) کے چیرمین نے کشمیر کی 3 پارلیمانی نشستوں کیلئے ہونے والی پولنگ کے خلاف احتجاجی کیلنڈر جاری کرتے ہوئے اہل وادی سے اپیل کی کہ وہ  24 اور 30 اپریل کو اور 7 مئی کو سول کرفیو رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے گھروں میں ہی رہیں۔ سید علی گیلانی نے اس کے ساتھ ساتھ جنوبی ، وسطی اور شمالی کشمیر کے عوام سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ 23 اپریل، 29 اپریل اور 6 مئی کو نماز مغرب کے بعد شبانہ احتجاج اور مظاہرے کریں۔ سید علی گیلانی نے اپنی اور دیگر مزاحمتی لیڈران کی گرفتاری و خانہ نظر بندی کے خلاف عوام سے  21 اپریل کو مکمل ہڑتال کرنے کی اپیل کی۔

منبع: ریڈیو تہران

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲