15 اپریل 2014 - 14:13
دہشتگردوں کو ریاست کی برابری دی جائے تو وہاں بدامنی معمول بن جاتی ہے، سید محمد رضا

کوئٹہ کے نجی ٹی وی سے گفتگو میں ایم ڈبلیو ایم کے رکن بلوچستان اسمبلی کا کہنا تھا کہ سریاب روڈ واقعے میں ملوث عناصر مسلمان تو کیا انسانیت کے نام پر بدنما داغ ہیں۔ صوبے میں امن و امان قائم کرنے میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔

ابنا: مجلس وحدت مسلمین کے رہنماء سید محمد رضا نے کہا ہے کہ جس ملک میں دہشتگردوں کو ریاست کے برابر حیثیت دیکر مذاکرات کا ڈھونگ رچایا جائے، اُنکی ظالمانہ کاروائیوں کو قانونی حیثیت دیکر، قاتلوں کو جیلوں سے باعزت بری کر دیا جائے تو وہاں بم دھماکے اور قتل و غارت گری روزمرہ کا معمول بن جاتا ہے۔ جسکا مشاہدہ ہم پاکستان میں بخوبی کر رہے ہیں۔ یہاں سینکڑوں کی تعداد میں دہشتگرد گروہ ہیں۔ جب ایک کو قانونی حیثیت اور پروٹوکول ملتا ہے تو باقی بم دھماکوں اور قتل و غارت کے زور سے ریاست کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں اس کا علاج یہی ہو گا کہ پورا ملک ان گروہوں کے حوالے کر دیا جائے اور جنگل کی طرح ان میں جو بھی زیادہ طاقتور ہو، وہی اپنی حکومت قائم کرے۔ یہاں تک کہ عوام کا خدا ہی حا فظ۔ ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک کے طول و ارض میں قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔ حکومت کو عوام کے جان و مال کے تحفظ میں کوئی دلچسپی نہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ سریاب روڈ پر بےگناہ افراد کو بس سے اُتار کر شناخت کے بعد بے دردی کے سا تھ قتل کرنا، حیوانیت اور بربریت کی انتہا ہے۔ ایسے وحشی درندے مسلمان تو کیا انسانیت کے نام پر بدنما داغ ہیں۔ اس واقع کے بعد امن و امان سے متعلق حکومتی دعووں کا پول کُھل گیا۔ امن و امان کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ اس بارے میں صوبائی حکومت کے دعوے سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ پورے صوبے میں امن نام کی کوئی چیز نہیں۔ ننگِ انسانیت دہشتگرد جہاں اور جس جگہ بھی کاروائی کرنا چاہیں، کاروئی کرکے اطمینان سے بھاگ جاتے ہیں۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے پھرتے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتنے دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور کتنوں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ کتنوں کو پھانسی ملی ہیں کہ امن کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ جو حکومت شرپسندوں کے بیانات کو اخبارات سے نہ مٹا سکے وہ اُنکی کاروائیوں کو کیسے لگام دے سکتے ہیں۔ انہوں نے آخر میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت ہمارے ساتھ آنکھ مچولی بند کرے اور ان دہشت گردوں کو لگام دے۔ اُنکے ٹھکانے حکومت سے ڈھکے چھپے نہیں۔ انکے خلاف سخت کاروائی کی جائے، ورنہ بیگناہ انسانوں کا یہ خون اُنکے مُنہ پر بدنما داغ کی طرح ہمیشہ باقی رہے گا۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی براہ راست ذمہ داری بنتی ہے۔ ورنہ حکومت اپنی حیثیت کھو بیٹھے گی۔

.......

/169

لیبلز