15 اپریل 2014 - 10:08
افغانستان کے صدارتی انتخابات

افغانستان کے الیکشن کمشن نے اعلان کیا ہے کہ ا بھی تک کی رائے شماری میں دو صدارتی امیدواروں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی احمد زئی کو دوسرے امیدواروں پرواضح برتری حاصل ہے۔

ابنا: افغانستان کے الیکشن کمشن نے اعلان کیا ہے کہ ابھی تک کی رائے شماری میں دو صدارتی امیدواروں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی احمد زئی کو دوسرے امیدواروں پرواضح برتری حاصل ہے۔ ان دونوں امیدواروں نے افغانستان میں سیاسی استحکام اور اس ملک کو مشکلات سے نکالنے  کے حوالے سےملکی  اتحاد و یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔ عبداللہ عبداللہ نے تمام صدارتی امیدواروں سے اس امید کا اظہار کیاہے کہ وہ عوام کی رائے کا احترام کریں گے۔ عبداللہ عبداللہ نے  اس بات پر بھی تاکید کی ہے کہ حامد کرزئی کو مستقبل میں بھی اپنا سیاسی کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔انہوں نے مذید کہا ہے کہ کامیابی کی صورت میں وہ انتقامی سیاست کو نہیں اپنائیں گے اور 2009 کے صدارتی انتخابات میں ان کے ساتھ جوکچھ ہوا وہ اسکا کسی سے انتقام نہیں لیں گے۔ عبداللہ عبداللہ نے 2001 سے لیکر 2005 تک حامد کرزيی کے ساتھ  وزیرخارجہ کے طور پر کام کیا ہے۔

اشرف غنی احمد زئی جو ورلڈ بنک کے معروف ماہر اقتصاد ہیں نے بھی عوام کی رائے کا احترام کرنے پر تاکید کی ہے ۔

 افغانستان کے حالیہ الیکشن میں آٹھ امیدواروں نے حصہ لیا ہے اور انتخابات  میں شرکت کی شرح ساٹھ فیصد رہی۔طالبان کی دھمکی اور خراب موسم کی وجہ سے اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا  تھا کہ انتخابات میں ٹرن آؤٹ کم رہے گا تاہم افغان عوام نے بھر پور شرکت کرکے اس مشکل کو حل کردیا ہے ۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق عوام کی اس بھر پور شرکت کی وجہ سے عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی احمد زئی ملکی استحکام ۔باہمی تعاون ، امن کے قیام اور عوام کی رائے کا احترام کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ باہمی تعاون اور حامد کرزئی کے تجربات سے  استفادہ کرنے کا عبداللہ عبداللہ کا بیان اس بات کا غماز ہے کہ انہوں نے اس بات کا ادراک کرلیا ہے کہ کوئی ایک شخص یا پارٹی افغانستان کی تمام مشکلات کو حل نہیں کرسکتی بلکہ اسکے لئے مشترکہ جدو جہد کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے حامد کرزئی کے تجربات سے استفادہ بھی قابل تحسین اقدام ہے۔

افغانستان کے صدارتی امیدواروں  کے اسطرح کے بیانات عالمی برادری اور ان ممالک کے لئے حوصلہ ا‌‌فزائی کا باعث بن سکتے ہیں جو افغانستان میں تعمیر نو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ادھر طالبان نے انتخاب مخالف موقف کو برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ موجودہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے کسی بھی امیدوار کو افغانستان کے صدر کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔سیاسی ماہرین کے مطابق طالبان نے ان انتخابات میں افغان عوام کا امن وسلامتی کا پیغام درک نہیں کیا ہے اور اب بھی بدستور عوامی خواہشات کی مخالف سمت میں چل رہے ہیں۔ افغان عوام نے طالبان کی دھمکیوں اور خراب موسم کے باوجود وسیع پیمانے پر شرکت کرکے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ وہ جمہوریت کو پسند کرتے ہیں۔ طالبان کیطرف سے موجودہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے کسی بھی امیدوار کو افغان صدر کے طور پر تسلیم نہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ ستر لاکھ افغان شہریوں کی رائے کو زرا برابر اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ طالبان کے اس رويے سے انکی سیاسی اور سماجی ساکھ کو شدید نقصان پہنچے گا۔

.......

/169

لیبلز