29 مارچ 2014 - 19:30
ایران شواہد کیساتھ اپنی ٹیم بھیج دے مشترکہ کارروائی کیلئے تیار ہیں، سرتاج عزیز

وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہم نے ایران سے ہر قسم کا تعاون کیا۔

ابنا: پاکستان نے ایران کے سرحدی محافظوں کے اغواء میں ملوث ملزمان کے خلاف مشترکہ آپریشن کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران محض الزامات لگانے سے گریز کرے، شواہد کے ساتھ اپنی ٹیم بھیج دے مشترکہ کارروائی کے لئے تیار ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا کہ ایران سے اغواء کئے گئے سرحدی محافظوں کو پاکستان میں لانے کی کوئی اطلاع نہیں ملی، ایران الزام تو لگا رہا ہے لیکن ثبوت نہیں دے رہا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم نے ایران سے ہر قسم کا تعاون کیا۔ سیستان کے قریب سرحد کافی بیابان ہے ابھی تک ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملاکہ مغویوں کو پاکستان کی سرزمین پر لایا گیا۔ ایران ثبوت دے اور اپنی ٹیم بھیجے ہم مشترکہ آپریشن کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں میں کمی پاکستان اور عالمی دباؤ کا نتیجہ ہے، وزیراعظم میاں نواز شریف نے باراک اوباما سے ڈرون حملے روکنے سے متعلق بات کی تھی کہ ڈرون حملوں میں بےگناہ لوگ مر رہے ہیں، انہیں بتایا تھا کہ ڈرون حملے جہاں ہوتے ہیں وہاں فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ ڈرون حملے ملکی سلامتی کی خلاف ورزی ہیں۔ ان حملوں کے باعث طالبان سے مذاکراتی عمل بھی متاثر ہو رہا ہے۔ باراک اوباما نے اعلان تو نہیں کیا فی الحال ڈرون حملے بند کئے ہیں۔ اچھی بات ہے کہ امریکیوں نے ہماری بات مان لی ہے۔ تین چار مہینوں میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔ مشیر خارجہ برائے وزیراعظم سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغان طالبان سے پہلے بھی مطالبہ کیا ہے اور اب بھی کررہے ہیں کہ ہماری سکیورٹی فورسز اور ریاست پر حملے نہ کریں۔ ......./169