29 مارچ 2014 - 19:30
کیوں پاکستان میں ستر لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں؟

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان میں خواندگی کی مہم شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات پر پوری قوم متفق ہے کہ تعلیمی شعبے کو قومی ترجیحات اور عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جدید اصلاحات کی جائیں۔

ابنا: سنیچر کو ملک بھر میں تعلیم کے لیے نئے حکومتی منصوبے کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ آئندہ چار سالوں میں قومی آمدنی کا چار فیصد بجٹ تعلیم کے لیے مختص کیا جائے گا۔نواز شریف نےاس منصوبے کا اعلان ایک کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کیا جس کا عنوان تھا ’تعلیم کا نامکمل ایجنڈا‘ اور اس کا اہتمام وزات تعلیم، تربیت اور اعلیٰ تعلیم نے کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت فروغ پارہی ہے اور وہ جمہوری اقدار کو مستحکم بنانا چاہتے ہیں اور یہ مقصد تعلیم کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندہ برائے تعلیم گورڈن براؤن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ستر لاکھ بچے اسکول نہیں جا رہے ہیں جو کہ جدید دنیا میں بالکل قابل قبول نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان 2015 کے اواخر تک ایسے اہداف کی نشاندہی کرے جس پر وہ کام کرنا چاہتا ہے اور وہ اسے حاصل کرنے کے لیے اقدامات کو یقینی بنانے میں مدد کریں گے۔پاکستان میں تعلیم کے شعبے پر قومی بجٹ کا لگ بھگ دو فیصد سے بھی کم سالانہ خرچ کیا جاتا ہے۔......./169