ابنا: غداری کیس میں پرویز مشرف کے پیش نہ ہونے پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیئے گئے۔ خصوصی عدالت نے حکم دیا ہے ملزم پیش نہ ہو تو گرفتار کرکے پیش کیا جائے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ عدالت نے سابق صدر کو 13 مارچ کو عدالت آنے کا حکم دیا تھا لیکن سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پرویز مشرف پیش نہ ہوئے۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ 13 مارچ کو عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، ملزم کو حکم دیا لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ 31 مارچ کو مشرف کو گرفتار کرکے پیش کیا جائے، انکار کی صورت میں زبردستی عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فوجداری مقدمات کے فیصلے میں زیادہ دیر نہیں کرسکتے۔ عدالت نے وزارت داخلہ پر زور دیا کہ مشرف کی سکیورٹی کی ذمہ داری وزارت داخلہ پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر مشرف پیش نہ ہوئے تو سیکرٹری داخلہ ذمہ دار ہونگے، لہذا سابق صدر کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے۔دیگر ذرائع کے مطابق سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو اکتیس مارچ کو طلب کرلیا ہے، عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اگر پرویز مشرف نہیں آتے تو نہیں گرفتار کرکے لایا جائے، گرفتاری کا یہ عدالتی حکم صرف اکتیس مارچ کیلیے ہے جبکہ آج مشرف کی عدم حاضری کے باعث ان پر فرد جرم عاید نہ ہوسکی، عدالت نے آج کے فیصلے میں قرار دیا کہ قانون کے مطابق ملزم کا پیش ہونا ضروری ہے۔ پرویز مشرف 31 مارچ کو حاضر ہوں۔ پرویز مشرف حاضر نہ ہوں تو گرفتار کرکے لایا جائے۔ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئی جی اسلام آباد یا اس سطح کا افسر وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کرائے۔ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری اکتیس مارچ کے لیے ہیں، پرویز مشرف کے پاس موقع ہوگا کہ گرفتاری سے بچنے کے لیے اس سے پہلے تک کا سارا وقت ہوگا کہ اس دوران وہ عدالت میں پیش ہوجائیں۔ عدالت تیرہ دسمبر کے بعد سے آٹھ مرتبہ پرویز مشرف کو پیش ہونے کا حکم دے چکی ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سکیورٹی کی بنا پر پرویز مشرف کو گیارہ مارچ کو حاضری سے استثنا دیا گیا۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کے وکیل کے مطابق ملزم کی عدم حاضری کی واحد وجہ سکیورٹی تحفظات ہیں، سیکریٹری داخلہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوآرڈینشن سے تمام تر سکیورٹی انتظامات کریں، ملزم کی عدالت آمد اور واپسی کے لئے وزارت داخلہ کے 10 مارچ کو لکھے گئے خط کے مطابق سکیورٹی انتظامات کئے جائیں، عدالت نے حکم دیا کہ 31 مارچ کو پرویز مشرف کی پیشی کے موقع پر سیکرٹری داخلہ عدالت میں موجود رہیں، اس سے پہلے کیس کی سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے دلائل میں کہا کہ سکیورٹی کی تصدیق اور اسکریننگ کے لیے آٹھ ہفتے درکار ہیں، سیکورٹی کلیئرنس مل گیا تو مشرف حاضر ہوجائیں گے، جبکہ استغاثہ کے وکیل اکرم شیخ نے موقف اپنایا کہ پرویز مشرف کے سکیورٹی انتظامات پر حکومت 20 کروڑ روپے خرچ کرچکی ہے، ڈھائی ہزار اہلکار تعینات ہیں، مشرف کے پاس اپنی سکیورٹی بھی ہے، پھر بھی عدالت محفوظ نہیں تو جیل محفوظ ترین جگہ ہے، پرویز مشرف بتائیں حیدر آباد، اڈیالہ یااٹک جیل، کہاں ان کا مقدمہ چلایا جائے، کیس کی مزید سماعت بیس مارچ کو ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
13 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 513812
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ 31 مارچ کو مشرف کو گرفتار کرکے پیش کیا جائے، انکار کی صورت میں زبردستی عدالت میں پیش کیا جائے۔