ابنا: ڈاکٹر علی لاریجانی نے آج تہران میں یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن سے ملاقات میں علاقائی مسائل اور عراق و افغانستان سمیت علاقے میں امن و سلامتی کی برقراری کے لئے ایران کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران، بحران شام کے حل کے لئے یورپی یونین کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہے۔ایران کے پارلیمنٹ کے مزید کہا کہ بحران شام کے حل کے لئے نہ تو فوجی آپشن اور نہ ہی دہشتگردوں و انتہا پسندوں کو مسلح کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اس ملک کو عوام کو ایک موقع دیا جانا چاہئے تاکہ وہ ملک کی جمہوریت کو مزید مستحکم کریں۔ ڈاکٹر علی لاریجانی نے ایران اور یورپی یونین کے تعلقات کی تاریخ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغرب نے ماضی میں ایران کی نیک نیتی کے حوالے سے اپنی ایٹمی کاربندی پر عمل نہیں کیا اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ یورپی یونین اور گروپ پانچ جمع ایک کو صادقانہ طور پر مشترک اہداف کے حصول کے لئے عملی اقدامات کرنے چاہئے۔ اس ملاقات میں کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ یورپی یونین، ایران کے ایٹمی مسئلے کے مکمل حل اور علاقائی سطح پر دیگر اہم موضوعات کے حل کے بارے میں ایران سے تعاون کرنے کو خود کو پابند سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحران شام کے حوالے سے جو موضوع سب سے اہم ہے وہ اس ملک میں انسان دوستانہ امداد پہنچانا ہے اور ایران اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ادھررہبر انقلاب اسلامی کے مشیر ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کیتھرین ایشٹن سے ملاقات کے بعد کہا کہ ایران کے خلاف امریکی پروپگینڈا اور مخاصمانہ اقدامات جوہری مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں .انہوں تہران میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ایران این پی ٹی کے دائرے میں اپنے جوہری حقوق پر ڈٹا ہوا ہے اور اپنے ان حقوق سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا .ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ ایران جوہری مذاکرات کو جاری رکھنے کے حق میں ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ بات چیت میں جو اتفاق رائے ہو اس کے بعد امریکہ جیسے ممالک کو اس بات کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ اس اتفاق رائے کے خلاف اقدامات کریں۔......./169
9 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 512694
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ بحران شام کے حل کے لئے ایران یورپی یونین کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہے۔