ابنا: سلامتی کونسل کی القاعدہ پر پابندیاں عائد کرنے کی ذمے دار کمیٹی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ 'اس گروپ کے دنیا بھر میں اب اثاثے منجمد کر لیے جائیں گے اور اس کو اسلحہ مہیا کرنے پر بھی پابندی عاید ہوگی۔شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار جنگجو تنظیم النصرۃ محاذ کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے گذشتہ ماہ القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کے ساتھ وفاداری کا اظہار کیا تھا لیکن اپنے گروپ کے عراقی القاعدہ میں ضم ہونے کے دعووں کی تردید کی تھی۔اس تنظیم نے شامی صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ سوا دوسال سے جاری مسلح عوامی احتجاجی تحریک میں اب تک اہم کردار ادا کیا ہے اور اس نے شامی فوج کے مقابلے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی تھیں جس کی وجہ سے شام میں اس نے اپنی اچھی شہرت بنا لی تھی لیکن بعض مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور دوسرے مغربی ممالک شامی صدر کے مقابلے میں اعتدال پسند جنگجو گروپوں کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور وہ کسی ایسی تنظیم کے حق میں نہیں جس کے القاعدہ سے کسی طرح کے تعلقات ہوں اور وہ مستقبل میں ان کے لیے مسائل پیدا کرسکے۔بعض مغربی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عراقی القاعدہ کے النصرۃ محاذ کے ساتھ تعلق سے شام کے اندر اس تنظیم کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ القاعدہ کو مسلم دنیا میں اچھے لفظوں سے یاد نہیں کیا جاتا ہے النصرۃ محاذ نے عراق میں القاعدہ سے ہونے والی غلطیوں سے بھی سبق سیکھا ہے اور وہ اس بات پر اصرار کرتی رہی ہے کہ وہ شامی سکیورٹی فورسز اور سرکاری اداروں ہی کو نشانہ بنا رہی ہے تاہم اس تنظیم کے خودکش بم حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کا بھی بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔......./169
8 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 512269
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کو القاعدہ سے تعلق کے الزام میں اپنی پابندیوں والی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔